فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں مزید اضافہ ہوگیا۔ لکسمبرگ، بیلجیئم، موناکو، اینڈورا اور مالٹا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
بیلجیئم کے وزیراعظم نے غزہ تک مکمل اور آزادانہ رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جاری بحران دو ریاستی حل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ لکسمبرگ کے وزیراعظم نے بھی واضح کیا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں امن کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
مالٹا کے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کو حماس کی فتح نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ قدم امن کی حمایت اور ایک سیاسی حل کی طرف پیش رفت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، یعنی دنیا کے 80 فیصد سے زائد ممالک فلسطین کی ریاستی حیثیت کو مانتے ہیں۔ اس کے باوجود غزہ پر حملوں میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور خطہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے۔
یورپی رہنماؤں کے مطابق، فلسطین کو تسلیم کرنا محض علامتی اقدام نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور امن کی نئی راہیں کھولنے کے لیے ایک عملی دباؤ ہے۔
اسی ہفتے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، پرتگال اور کینیڈا نے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم امریکا اور اسرائیل نے اس پیشرفت کی مخالفت کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اسرائیلی مندوب نے اجلاس کو “سرکس” قرار دیا جبکہ امریکی انتظامیہ نے کہا کہ یہ اقدام امن کوششوں کے بجائے حماس کے لیے انعام ہے۔
امریکا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے فلسطین کی مکمل رکنیت کو روک سکتا ہے۔





