پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں دی جانے والی سزائیں اور عدالتی فیصلے پہلے سے طے شدہ ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کی بہن علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو شروع دن سے ملک چھوڑنے کا کہا جا رہا تھا لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام مقدمات کا سامنا کریں گے۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ جیل ٹرائل میں ایک گواہ جھوٹا ثابت ہوا ہے مگر مقدمات کو بار بار ملتوی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے القادر ٹرسٹ کیس میں بشریٰ بی بی کی فوری ضمانت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پہلے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی گئی، اب القادر کیس میں ضمانت دی جا رہی ہے، سب کچھ ایک اسکرپٹ کے تحت ہو رہا ہے۔
عمران خان نے قبائلی علاقوں کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ میں نوجوانوں کی شہادتیں دلخراش ہیں، اسی لیے وہ آپریشنز کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو خیبرپختونخوا میں آپریشن کے لیے ٹریپ کیا گیا ہے جبکہ ایسے اقدامات دہشت گردی کو کم کرنے کے بجائے بڑھا دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو افغانستان سے بات کر کے امن قائم کرنا چاہیے اور دونوں ملکوں کے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔






