وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک فیز 2 کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، بلوچستان کی معدنیات کو گوادر سے جوڑنے کے لیے راہداری قائم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ 14 ویں جے سی سی اجلاس کی صدارت میرے لیے اعزاز ہے، اس مرحلے میں حکومت سے زیادہ بزنس ٹو بزنس تعاون پر زور دیا جائے گا اور چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کی مختلف راہداریاں، جیسے گروتھ، انوویشن، گرین انرجی اور انفراسٹرکچر راہداری پاکستان کی برآمدات بڑھانے، ٹیکنالوجی میں ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور علاقائی ربط کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک فیز 2 میں نوجوانوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، اگلی دہائی میں 10 ہزار پاکستانی نوجوانوں کو چین کی 50 بڑی یونیورسٹیوں میں نئی ٹیکنالوجیز میں پی ایچ ڈی کے مواقع دیے جائیں گے، جس سے معیشت کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان چین کے غربت کے خاتمے کے اقدامات سے سیکھ کر پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کو فروغ دے گا، جبکہ شاہراہ قراقرم کے دوسرے مرحلے پر کام تیز کرنے اور معدنیات راہداری کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔






