پکی شاہ مردان ضلع میانوالی میں چند ماہ قبل ہونے والے سی ٹی ڈی میانوالی کے ایک مبینہ ریڈ کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ اس کارروائی کی سربراہی اویس اسلم نے کی تھی، جس میں ایک سابقہ سرکاری ملازم کے گھر چھاپہ مارا گیا۔
ذرائع کے مطابق ریڈ کے دوران کروڑوں روپے برآمد ہوئے، تاہم یہ رقم بعد ازاں غائب کر دی گئی اور مذکورہ سرکاری ملازم کو پل دس ہزار جناح بیراج کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
ریڈ کی مخبری اسکندرآباد کالونی کے رہائشی اور پٹرولنگ پولیس کے ملازم رشید نے کی تھی، جبکہ پکی شاہ مردان کے رہائشی عرفان شاہ نے بھی اپنے ذرائع سے معلومات فراہم کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عرفان شاہ کا بھائی کوثر شاہ کوئٹہ سے اسلام آباد گاڑی چلاتا ہے اور اسی راستے سے مذکورہ سرکاری ملازم اپنی رقوم منتقل کرتا تھا۔ اسی وجہ سے ان کے پاس مکمل تفصیلات موجود تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈ کے بعد مبینہ طور پر حصے تقسیم کیے گئے، تاہم رشید کو کچھ نہ ملنے پر معاملہ سامنے آگیا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس رقم میں سے کچھ افراد نے اپنے حصے سے مشینری اور ایکسیویٹرز بھی خریدے۔
واضح رہے کہ یہ کارروائی میانوالی پولیس نے نہیں بلکہ سی ٹی ڈی کے تحت کی گئی تھی۔ اس کیس میں شامل کرداروں اور مبینہ مالی لین دین کی تفتیش اگر اسلام آباد میں مقیم متعلقہ سابقہ سرکاری ملازم تک جا پہنچی تو مزید انکشافات بھی متوقع ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خبر فراہم کرنے والا چشم دید گواہ اب بھی زندہ ہے اور کسی بھی انکوائری میں ایک ایک بات پر گواہی دینے کو تیار ہے۔





