سلام آباد: دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ صمود فلوٹیلا میں سوار پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے تمام تر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی شہریوں کو اسرائیلی افواج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے، اور ایک دوست یورپی ملک کے ذریعے سفارتی ذرائع سے اس کی تصدیق کی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی اسرائیلی تحویل میں ہیں، تاہم وہ محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جیسے ہی ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے، ان کی واپسی کو فوری طور پر ممکن بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفتر خارجہ اس سے قبل بھی وطن واپسی کے انتظامات کر چکا ہے اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی میں مدد فراہم کی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ بدھ کی شب اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ بھی شامل تھیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن استنبول پہنچ چکے ہیں، جن میں 36 ترک شہریوں سمیت امریکا، برطانیہ، اٹلی، اردن، کویت، لیبیا، الجزائر، موریطانیہ، ملائیشیا، بحرین، مراکش، سوئٹزرلینڈ اور تیونس کے کارکن شامل ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق فلوٹیلا کے تقریباً 450 کارکن تاحال اسرائیلی حراست میں ہیں، جن میں پاکستانی شہری اور سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔






