سعودی عرب کے صحرا میں 12 ہزار سال پرانا نقش و نگار دریافت

0
241

ریاض: شمالی سعودی عرب کے علاقے حائل کے اَل نَفُود صحرا میں گرین اریبیا پراجیکٹ کے دوران ایک حیران کن دریافت سامنے آئی ہے جہاں پتھروں پر تقریباً 12 ہزار سال پرانے نقوش ملے ہیں۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور بین الاقوامی تحقیقی ٹیموں کی اس دریافت کے مطابق، پتھروں پر کندہ نقش و نگار 11,400 سے 12,800 سال پرانے ہیں۔ اب تک تقریباً 176 پتھروں پر نقوش کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے 130 نقوش انسانی جسامت کے برابر (Life-size) ہیں۔

ان نقوش میں اونٹ، ہرن، گھوڑے، ولڈبیسٹ جیسے جانوروں کے ساتھ ایک معدوم نسل کی عورت کی تصویر بھی شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض نقوش اتنی بلندی پر کندہ کیے گئے ہیں کہ انہیں بنانے والے فنکار پورے نقش کو سامنے سے دیکھ بھی نہ سکتے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ 13 سے 16 ہزار سال قبل یہ علاقہ موجودہ کی طرح خشک نہیں تھا بلکہ یہاں بارشیں ہوتی تھیں، عارضی جھیلیں بنتی تھیں اور انسانی بستیاں موجود تھیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدیم آرٹ دراصل اُس دور کے انسانوں کے ثقافتی اظہار کا حصہ تھا، جو اپنے ماحول، جانوروں اور روزمرہ زندگی کو پتھروں پر محفوظ کرتے تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا