غزہ : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی انتظامیہ میں اس کا کردار ختم کرنے کے نکات پر غزہ کے شہریوں نے وسیع پیمانے پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔
فلسطینیوں کے بیانات کے مطابق متعدد متاثرین نے کہا کہ وہ مزاحمت چھوڑنے یا ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کریں گے اور مزاحمت کو ان کا جائز حق قرار دیا۔ ایک خاتون نے کہا کہ اسرائیل کو کوئی جائز ریاست تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اسلحہ پھینکنے کا سوال پیداہی نہیں ہوتا۔
غزہ کی ایک بچی نے بھی کہا کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر ہرگز راضی نہیں، اور ان کا حق ہے کہ مزاحمتی قوتیں ان کی حفاظت کریں۔ ایک شہری نے واضح کیا کہ حماس کو سیاسی نظام سے خارج کرنا ناقابلِ قبول ہے کیونکہ حماس فلسطینی قوم کا بنیادی جزو ہے۔
کئی بولنے والوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو غاصب وجود کو باقاعدہ تسلیم کرنا قرار دیا اور اس راستے کی مخالفت کی۔ مجموعی طور پر غزہ کے شہری ٹرمپ کے منصوبے کے اس شق کے خلاف ہیں جو حماس کے ہتھیار اور اس کا سیاسی کردار ختم کرنے کی بات کرتی ہے۔






