ترمیم تک موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا، سپریم کورٹ بنچ

0
182

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں اور جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی، موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ کے 8 رکنی آئینی بنچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر براہ راست سماعت کی، جس میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے۔ سماعت سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر لائیو نشر کی گئی۔

ایڈووکیٹ حامد خان نے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ ترمیم رات کے وقت پارلیمنٹ میں لائی گئی اور درخواست کی کہ یہ کیس فل کورٹ میں سنا جائے۔ وکیل نے بتایا کہ 26 ویں ترمیم سے جوڈیشل کمیشن کی فارمیشن اور بنچز بنانے کے اختیارات پر اثر پڑا ہے اور ججز اقلیت میں آگئے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل پر کوئی قدغن نہیں، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ فل کورٹ کا آرڈر آئین کے کس آرٹیکل کے تحت دیا جائے۔ حامد خان نے آرٹیکل 187 کا حوالہ دیا۔

جسٹس مندوخیل نے واضح کیا کہ آئینی بنچ کا تصور پارلیمان نے دیا، نہ کہ ججز نے، اور جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر آئینی بنچ کا وجود ختم ہوا تو سپریم کورٹ کے آرڈر کیسے جاری ہوں گے۔

بعدازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ آئینی بنچ نے گزشتہ روز فریقین کی استماع کے بعد سماعت لائیو سٹریمنگ کرنے کا حکم دیا تھا، اور 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف پہلی سماعت 27 جنوری 2025 کو ہوئی تھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا