اسلام آباد: جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد، جو اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد وطن واپس آئے، اسلام آباد ایئرپورٹ پر عوامی استقبال کے موقع پر جذباتی انداز میں بولے کہ وہ وصیت لکھ کر غزہ گئے تھے اور ان کا واپس آنا خود ان کے لیے حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “میری زندگی اور موت غزہ کے لیے ہے”۔
اسلام آباد میں نجی ائیر لائن کی پرواز کے ذریعے وطن واپسی کے بعد مشتاق احمد نے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو سال سے غزہ میں نسل کشی جاری ہے اور 25 ہزار بچے معذور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے گلوبل صمود و فلوٹیلا کے شرکاء خصوصاً غیر مسلم شرکاء کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ امت مسلمہ کی خاموشی قابلِ شرم ہے۔
مشتاق احمد نے اسرائیل اور اس کے رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ انہیں اسرائیل کے ذریعے اغواء کیا گیا، ان کے پاسپورٹ پر اسرائیل کی مہر موجود نہیں تھی اور وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہداء کا حساب لیا جائے گا اور اسرائیل کے سہولت کار حکمرانوں سے بھی جواب طلب کیا جائے گا۔
انہوں نے پاکستانی قیادت پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل، ابراہیم اکارڈ یا ٹرمپ کے فارمولوں کو قبول نہیں کریں گے اور فلسطین کا دارالحکومت القدس ہے۔ مشتاق احمد نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکمرانوں پر تنقید کی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو “قاتل” قرار دیتے ہوئے ان کے لیے نوبل انعام کے حق کو مسترد کیا۔
مشتاق احمد نے اعلان کیا کہ وہ پورے پاکستان میں ایک لاکھ پاک فلسطین کمیٹیاں بنائیں گے، ہر گاؤں اور شہر کے پریس کلبوں کو متحرک کریں گے اور کراچی سے ہزاروں کشتیوں کا قافلہ غزہ بھیجے جانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی سفارتخانے کے سامنے پر امن دھرنے کا اعلان کرتے ہیں جس کا ہدف اسرائیل اور امریکی پالیسیاں ہوں گی۔






