چترال: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ورچوئل عدالتوں کا قیام اپر چترال جیسے دور دراز علاقوں کے عوام کو انصاف تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے اپر چترال کا دورہ کیا جہاں بونی میں قائم نئی ورچوئل کورٹ کا افتتاح کیا گیا۔
اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف کی مؤثر فراہمی کے لیے بینچ اور بار کے درمیان باہمی احترام اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عدالتی نظام میں شفافیت اور سائلین کو سہولت فراہم کرنا عدالتی اصلاحات کا مرکزی مقصد ہے۔
چیف جسٹس نے ملک بھر میں عدالتوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور صلاحیتوں میں اضافے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پسماندہ اور مشکل علاقوں میں تعینات عدالتی افسران کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو انصاف تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اپر چترال کی ضلعی عدلیہ نے عوام کا اعتماد برقرار رکھا ہے اور یہ قابلِ تعریف ہے۔






