پاکستان کا افغان بارڈر پر جارحیت کا منہ توڑ جواب، 200 دہشتگرد ہلاک، 23 جوان شہید

0
487

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ افغان حدود کی جانب سے کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں آئی ایس پی آر کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور منسلک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ پاکستان کے 23 بہادر جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے رات کے وقت سرحد کے ساتھ پاک سرزمین پر بلااشتعال حملے کیے، جن کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر کے دہشت گردی کی سہولت کاری کرنا تھا۔ بیان کے مطابق چوکس مسلح افواج نے حملوں کو فیصلہ کن طور پر پسپا کیا اور جوابی کارروائیوں میں فائرنگ کے علاوہ طالبان کے کیمپوں، چوکیوں اور تربیتی مراکز پر چھاپے بھی مارے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کارروائی کے دوران طالبان کے متعدد ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کو تباہ کیا گیا اور دشمن کی 21 چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں طالبان کی پوسٹس، ہیڈکوارٹرز اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران 20 فوجی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا کہ پاکستانی عوام تشدد سے بچاؤ اور جنگ بندی کی صورت میں تعمیری سفارتی رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بیان میں اس واقعے کو طالبان وزیر خارجہ کے دورۂ بھارت کے پس منظر سے منسلک کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ واقعہ خطے میں دہشت گردی کے سرپرستوں کی بدقصد کارروائیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

آئی ایس پی آر نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فتنۃ الہندوستان، فتنۃ الخوارج اور داعش جیسے عناصر کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر طالبان حکومت دہشت گردوں کو فعال سہولت فراہم کرتی رہی تو پاکستان افغانستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پرامان نہیں بیٹھے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا