افغانستان میں جوابی کارروائی مجبوری تھی، عارضی سیز فائر قابل قبول نہیں:وزیراعظم

0
382

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا صبر لبریز ہو چکا ہے اور افغانستان میں خوارج کے خلاف جوابی کارروائی مجبوری میں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر افغان حکومت سنجیدہ ہے تو عارضی سیز فائر کو محض وقت کھینچنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ اسے آگے بڑھایا جائے۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے روایتی بھائی چارے کے رشتے کو برقرار رکھا، مگر مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے بعد افواج نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں جوابی کارروائی کرکے خوارج کو مؤثر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان پر حملہ ہوا تو افغان وزیر خارجہ دہلی میں موجود تھے اور افغانستان بعض عناصر کو کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جائز شرائط پر مذاکرات کا خواہاں ہے، قطر سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور امیرِ قطر نے بھی اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی رغبت ظاہر کی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان افغانستان کو خوارج کی آماجگاہ نہیں بننے دے گا اور فتنہ الخوارج کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود پچھلے عشرے میں لاکھوں افغانوں کی میزبانی کی ہے، مگر حالیہ واقعات سے برداشت ختم ہو چکا ہے اور ملکی سلامتی اولین ترجیح ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا