خاموشی…خاموش قاتل

0
930

تحریر: مصباح عدنان

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ جو شخص محفل میں سب سے زیادہ ہنستا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اپنی تنہائی میں بھی اتنا ہی خوش ہو؟ کچھ لوگ اپنے اندر ایک ایسا شور لیے پھرتے ہیں جس کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ وہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں، لوگوں کے دکھ سنتے ہیں، ٹوٹے ہوئے دلوں کو تسلی دیتے ہیں، مگر جب خود بکھرنے لگتے ہیں تو ان کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دنیا اکثر آپ کے چہرے کو پڑھتی ہے، آپ کی خاموشی کو نہیں؛ آپ کے الفاظ سنتی ہے، آپ کے اندر کی چیخوں کو نہیں۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ اچانک خاموش نہیں ہوتے، بلکہ وہ بہت عرصے سے خاموش ہو رہے ہوتے ہیں، مگر کسی نے ان کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہماری زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم نے ہمیشہ مضبوط دیکھا ہوتا ہے۔ گھر میں کوئی مسئلہ ہو تو سب سے پہلے انہی کو پکارا جاتا ہے، کسی کا دل ٹوٹ جائے تو وہی تسلی دیتے ہیں، اور کسی کو مشورہ چاہیے ہو تو سب ان کے پاس آتے ہیں۔

وہ ہر کسی کے لیے وقت نکالتے ہیں، ہر کسی کی بات سنتے ہیں اور ہر کسی کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتے ہیں، مگر شاید ہی کوئی یہ سوچتا ہو کہ جو شخص سب کے لیے موجود رہتا ہے، وہ خود کس کے لیے موجود ہو سکتا ہے؟ ہم اکثر لوگوں کو ان کے کردار کے نام سے پہچاننے لگتے ہیں؛ کوئی ذمہ دار ہے، کوئی سمجھ دار، کوئی مضبوط اور کوئی قربانی دینے والا۔ پھر آہستہ آہستہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کرداروں کے پیچھے بھی ایک انسان ہے، جسے کبھی تھکن محسوس ہوتی ہے، کبھی دل دکھتا ہے اور کبھی کسی کے دو محبت بھرے لفظوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مضبوط لوگ ٹوٹتے نہیں، حالانکہ بعض اوقات وہ صرف اس لیے نہیں ٹوٹتے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ بکھر گئے تو انہیں سمیٹنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

ہم کتنی آسانی سے کسی کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو بہت خوش رہتا ہے، اسے کیا پریشانی ہو سکتی ہے، حالانکہ ہم نہیں جانتے کہ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کتنی تھکن، کتنی بے بسی اور کتنی ان کہی باتیں چھپی ہو سکتی ہیں۔ کبھی کوئی اپنی پریشانی اس لیے بیان نہیں کرتا کہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ لوگ اسے کمزور سمجھیں گے، کبھی کوئی اپنے آنسو اس لیے روک لیتا ہے کہ گھر کے دوسرے افراد پہلے ہی پریشان ہوتے ہیں، اور کبھی کوئی بار بار سمجھانے کے بعد خاموش ہو جاتا ہے کیونکہ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہر شخص سن تو سکتا ہے، مگر ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ ہنستا بھی ہے، باتیں بھی کرتا ہے اور لوگوں میں بیٹھتا بھی ہے، مگر اندر سے پہلے جیسا نہیں رہتا، اور دنیا اسے بدل جانے کا طعنہ دیتی ہے۔

کاش کوئی یہ بھی پوچھتا کہ اسے بدلنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟ رشتے خوب صورت ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انہی رشتوں میں انسان اپنی ذات کو سب سے زیادہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی خوشی قربان کرتا ہے، دوسروں کی پسند کے لیے اپنی پسند بدلتا ہے اور دوسروں کی توقعات پوری کرتے کرتے اپنی خواہشوں کو بھول جاتا ہے۔ مسئلہ قربانی دینے میں نہیں، مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب قربانی کو فرض اور انسان کی ضرورتوں کو خود غرضی سمجھ لیا جائے۔ ہم دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری بات سمجھیں، ہماری خاموشی محسوس کریں اور ہمارے بغیر کہے ہمارے دکھ جان لیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص ہماری خاموشی نہیں پڑھ سکتا۔ اسی لیے کبھی کبھی اپنے جذبات کو الفاظ دینا، اپنی تکلیف بیان کرنا اور اپنی ضرورت بتانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ محبت صرف کسی کے لیے کچھ کر گزرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے احساسات کو جگہ دینے، اس کی بات سننے اور اسے اپنی کمزوریوں سمیت قبول کرنے کا نام بھی ہے۔

ایک رشتہ صرف اس وقت مضبوط نہیں ہوتا جب دو لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں، بلکہ اس کی اصل مضبوطی اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک شخص کہہ سکے کہ آج میں ٹھیک نہیں ہوں، اور دوسرا اسے مضبوط بننے کا مشورہ دینے کے بجائے صرف اتنا کہے کہ کوئی بات نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے اداسی نہیں ہوتی؛ کچھ لوگ واقعی خوش ہوتے ہیں، کچھ اپنی مشکلات کے باوجود زندگی سے محبت کرنا جانتے ہیں، اور کچھ کے لیے مسکراہٹ دوسروں کو خوشی دینے کا ایک خوب صورت طریقہ ہوتی ہے۔ اصل بات یہ نہیں کہ ہر شخص کے چہرے کے پیچھے کوئی درد چھپا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں کسی کے درد کو جاننے کے لیے اس کے ٹوٹنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ کسی کا حال پوچھنا ایک معمولی سا عمل لگتا ہے، لیکن کبھی کبھی یہی ایک سوال کسی کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ کسی کی بات بغیر فیصلہ سنائے سن لینا، اس کی کوششوں کو سراہنا اور اسے یہ احساس دلانا کہ اسے ہر وقت مضبوط بن کر رہنے کی ضرورت نہیں، محبت کی وہ شکلیں ہیں جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اور اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہر وقت دوسروں کو سنبھالتے ہیں، تو یاد رکھیے کہ آپ کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ آپ دوسروں کے لیے کتنا کچھ کرتے ہیں، بلکہ آپ اپنی ذات میں بھی اہم ہیں۔ آپ کو بھی آرام کرنے، مدد مانگنے، اپنی پریشانی بیان کرنے اور ضرورت پڑنے پر انکار کرنے کا حق ہے۔ ہر وقت سب کے لیے دستیاب رہنا محبت کی واحد تعریف نہیں، اور ہر تکلیف خاموشی سے برداشت کرنا مضبوطی کی واحد نشانی نہیں۔ کبھی کبھی خود کو ترجیح دینا خود غرضی نہیں، بلکہ اپنی ذات کے ساتھ انصاف ہوتا ہے۔ ہم شاید ہر شخص کے مسائل حل نہ کر سکیں، ہر آنسو نہ پونچھ سکیں اور ہر دکھ کو ختم نہ کر سکیں، لیکن ہم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ کسی کی تکلیف کو معمولی نہ سمجھیں، کسی کی خاموشی کا مذاق نہ اڑائیں اور کسی کی مضبوطی کو اس کی ضرورتوں سے بے نیازی نہ سمجھ بیٹھیں۔

آخرکار، ہر انسان ایک ایسی جگہ کا حق دار ہے جہاں اسے ہر وقت مضبوط بن کر نہ رہنا پڑے؛ جہاں وہ مسکرا بھی سکے، رو بھی سکے، خاموش بھی رہ سکے اور پھر بھی اسے یہ خوف نہ ہو کہ کوئی اسے کمزور سمجھ لے گا۔ شاید دنیا اس دن تھوڑی زیادہ خوب صورت ہو جائے جس دن ہم لوگوں کی مسکراہٹوں سے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے احساسات کی قدر کرنا بھی سیکھ لیں۔ اس لیے آج ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیے کہ آپ نے آخری بار کسی سے یہ کب پوچھا تھا کہ سب کے لیے مضبوط بننے والے، تم خود کیسے ہو؟ شاید کسی کو واقعی اس سوال کا انتظار ہو۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا