جمہوریت میں بالادست کون؟ عوام یا آئین اور پارلیمان

0
1263
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سندر شعیب بھٹہ ایڈووکیٹ

جمہوریت کا ذکر آتے ہی ذہن میں عوام کا حقِ حکمرانی، ووٹ کی طاقت اور منتخب نمائندوں کی جواب دہی آتی ہے۔ لیکن جمہوری نظام صرف اکثریت کی رائے کا نام نہیں۔ اس میں یہ سوال بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ فیصلے کرنے کا اختیار کہاں سے آتا ہے، اس کی حد کیا ہے اور عوام کی مرضی کو کس اصول کے تحت نافذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ سوال کہ جمہوریت میں بالادست کون ہے—عوام، آئین یا پارلیمان—بظاہر تین فریقوں کے درمیان اختیار کی تقسیم کا سوال ہے، مگر درحقیقت یہ جمہوری نظام کی بنیادوں کو سمجھنے کا سوال ہے۔

عوام جمہوریت کا سرچشمہ ہیں۔ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے نمائندے منتخب کرتے ہیں، حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیتے ہیں اور انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر حکمرانوں کو مسترد بھی کر سکتے ہیں۔ کوئی حکومت عوامی تائید کے بغیر جمہوری کہلانے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ اگر اقتدار عوام کی مرضی سے نہیں آتا تو وہ انتخابی جمہوریت کی بنیادی شرط پوری نہیں کرتا۔ اسی لیے عوامی رائے کو جمہوریت کی روح کہا جاتا ہے۔ لیکن عوام کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایک لمحے کی اکثریتی رائے ہر اصول اور ہر حق سے بلند ہو جائے۔ عوام کا اختیار نظام کے اندر استعمال ہوتا ہے، اور اس نظام کی حدود آئین متعین کرتا ہے۔آئین وہ بنیادی معاہدہ ہے جو ریاست کے اداروں کی تشکیل، ان کے اختیارات اور شہریوں کے حقوق کا تعین کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ حکومت کیسے بنے گی، پارلیمان کا دائرۂ اختیار کیا ہوگا، عدلیہ کی ذمہ داری کیا ہے اور شہریوں کو کون سے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ آئین کا مقصد عوام کی حاکمیت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے منظم اور محفوظ بنانا ہے۔

اس کے ذریعے اکثریت کو حکومت کرنے کا حق ملتا ہے، مگر اقلیتوں اور انفرادی شہریوں کے حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس لیے آئینی بالادستی جمہوریت کے مقابل کوئی تصور نہیں؛ یہ عوامی اختیار کے پائیدار اور منصفانہ استعمال کی ضمانت ہے۔پارلیمان عوام کے منتخب نمائندوں کا ادارہ ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ عوام اپنی رائے کو براہِ راست ہر پالیسی میں نہیں ڈھالتے، بلکہ نمائندوں کو قانون سازی اور قومی فیصلوں کا اختیار دیتے ہیں۔ پارلیمان حکومت سے سوال کرتی، بجٹ منظور کرتی، قانون بناتی اور عوامی مسائل پر بحث کرتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت میں پارلیمان محض حکومت کے فیصلوں کی توثیق کا مرکز نہیں ہوتی؛ وہ خودمختار بحث و مشاورت کا فورم ہوتی ہے۔ تاہم اس کا اختیار بھی آئین سے آتا ہے، اس لیے پارلیمان اپنی مرضی سے آئینی حدود سے باہر نہیں جا سکتی۔اگر عوام کو ہی ہر حال میں مطلق بالادست قرار دیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوامی رائے کس ذریعے سے معلوم کی جائے گی۔

انتخابات، ریفرنڈم، رائے عامہ کے جائزے یا احتجاج—ان میں سے ہر ایک کی نوعیت اور قانونی حیثیت الگ ہے۔ انتخابات ایک مقررہ مدت کے لیے نمائندوں کو اختیار دیتے ہیں، مگر یہ اختیار غیر محدود نہیں ہوتا۔ ووٹر حکومت منتخب کرتے ہیں، اسے آئین بدل کر اپنے ہر اقدام کو جائز قرار دینے کا اختیار نہیں دیتے۔ اکثریت کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اسے کسی گروہ کی شہریت، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے یا منصفانہ سماعت کا حق ختم کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔اکثریت کی حکمرانی جمہوریت کی ایک اہم شرط ہے، مگر جمہوریت کا مکمل تصور نہیں۔ اگر اکثریت کو ہر معاملے میں بے قید اختیار حاصل ہو تو انتخابات کے باوجود جبر پیدا ہو سکتا ہے۔ اقلیتوں، اختلاف کرنے والوں اور غیر مقبول افراد کے حقوق اکثریتی فیصلوں کی نذر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے آئین بنیادی حقوق کو روزمرہ سیاسی کشمکش سے الگ تحفظ دیتا ہے۔ آئینی عدالتیں یا دیگر قانونی ادارے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قانون سازی آئینی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔

یہ ادارے عوام کے منتخب نمائندوں کی جگہ حکومت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اختیارات کو ان کی مقررہ حد میں رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آئین کی تشریح کے نام پر عوامی نمائندگی کو بے معنی نہ بنا دیا جائے۔ اگر پارلیمان کے ہر فیصلے کو غیر منتخب ادارے آسانی سے روک سکیں، یا پالیسی سازی مسلسل عدالتی حکموں کے تابع ہو جائے، تو منتخب حکومت کے مینڈیٹ اور پارلیمان کی خودمختاری پر سوال اٹھتے ہیں۔ آئینی نگرانی اور پارلیمانی اختیار کے درمیان توازن ضروری ہے۔ عدالتیں بنیادی حقوق اور آئینی حدود کی حفاظت کریں؛ پارلیمان قانون سازی اور عوامی پالیسی پر فیصلہ کرے؛ اور حکومت ان قوانین کو نافذ کرتے ہوئے جواب دہ رہے۔ کسی ایک ادارے کو مطلق اختیار دینا اس توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔پاکستان جیسے معاشرے میں یہ بحث خاص اہمیت رکھتی ہے

جہاں آئینی نظام بار بار سیاسی بحرانوں اور ادارہ جاتی کشمکش کی زد میں آیا ہے۔ کبھی پارلیمان کے اختیار پر سوال اٹھتے ہیں، کبھی عدلیہ کے کردار پر، اور کبھی انتخابات کے ذریعے ملنے والے مینڈیٹ کو متنازع سمجھا جاتا ہے۔ اس ماحول میں اداروں کے درمیان حد بندی کمزور پڑے تو سیاسی اختلاف آئینی بحران میں بدل سکتا ہے۔ ایسے حالات میں بنیادی حل یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنے اختیار کی بنیاد آئین میں دیکھے اور اپنی حدود کا احترام کرے۔ منتخب ہونا کسی ادارے کو ہر اقدام کا جواز نہیں دیتا، اور آئینی نگرانی کا اختیار بھی کسی ادارے کو عوامی مینڈیٹ کا متبادل نہیں بناتا۔

جمہوریت میں عوام کی بالادستی کا عملی اظہار آزاد، منصفانہ اور باقاعدہ انتخابات سے ہوتا ہے۔ لیکن انتخابات تبھی معنی رکھتے ہیں جب شہری آزادانہ رائے دے سکیں، سیاسی جماعتیں برابر مواقع کے ساتھ حصہ لے سکیں، ووٹوں کی گنتی شفاف ہو اور نتائج کو قانونی طریقے سے چیلنج کرنے کا حق حاصل ہو۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام صرف انتخابی دن تک محدود نہیں۔ پارلیمان میں نمائندوں کو بحث کرنے کا موقع، اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کی آزادی اور میڈیا کو عوامی معاملات پر سوال اٹھانے کی گنجائش بھی اسی احترام کا حصہ ہیں۔ اگر یہ راستے بند ہوں تو عوام کا اختیار رسمی رہ جاتا ہے۔

پارلیمان کی بالادستی کا دعویٰ بھی اسی وقت درست ہے جب پارلیمان آئینی طریقے سے قائم ہو اور اس کے فیصلے مقررہ ضابطوں کے مطابق ہوں۔ قانون سازی کھلی بحث، کمیٹیوں کی جانچ اور اختلافی آوازوں کو سننے کے بعد ہونی چاہیے۔ جلد بازی میں منظور کیے گئے قوانین، جن پر عوام یا منتخب نمائندوں کو مناسب بحث کا موقع نہ ملے، پارلیمان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح پارلیمانی اکثریت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حکومت کے حق میں ووٹ ملنا ہر سرکاری ادارے پر بے لگام کنٹرول کا لائسنس نہیں۔ پارلیمان عوامی نمائندگی کا مرکز ہے، لیکن اسے بھی آئینی جواب دہی قبول کرنی ہوتی ہے۔

آئین کی بالادستی صرف کتاب میں درج الفاظ سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے سیاسی قیادت، سرکاری اداروں اور شہریوں کی مسلسل پابندی ضروری ہے۔ اگر کوئی جماعت اقتدار میں ہو تو آئین کا احترام کرے، اور اقتدار سے باہر ہو تو بھی اسے اسی آئینی عمل پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ اداروں کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے یا عدالتی فیصلوں کو صرف اس وقت تسلیم کیا جائے جب وہ اپنے حق میں ہوں، تو آئینی روایت کمزور ہوتی ہے۔ جمہوری ثقافت کا تقاضا ہے کہ اختلاف کے باوجود قواعد تسلیم کیے جائیں، اور آئینی تبدیلی بھی مقررہ طریقۂ کار کے ذریعے لائی جائے۔تو پھر جمہوریت میں بالادست کون ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ حاکمیت کا سرچشمہ عوام ہیں، آئین ان کے اختیار کی صورت اور حدود طے کرتا ہے، اور پارلیمان اس اختیار کو نمائندگی اور قانون سازی کے ذریعے بروئے کار لاتی ہے۔

یہ تینوں ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام کے بغیر آئین اور پارلیمان بے روح ادارے ہیں؛ آئین کے بغیر عوامی اکثریت بے قید طاقت بن سکتی ہے؛ اور فعال پارلیمان کے بغیر عوامی اختیار مؤثر نمائندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔جمہوریت کی کامیابی اس میں نہیں کہ کوئی ایک ادارہ سب پر فوقیت حاصل کر لے، بلکہ اس میں ہے کہ ہر ادارہ اپنے مینڈیٹ کے اندر کام کرے اور اپنی غلطی پر جواب دہ ہو۔ عوام حکومت منتخب کریں، آئین حقوق اور ضابطوں کی ضمانت دے، پارلیمان کھلی بحث کے ذریعے قانون بنائے اور عدالتیں آئینی حدود کی حفاظت کریں۔ جب یہ توازن قائم رہتا ہے تو اکثریت کو حکومت کا حق ملتا ہے اور ہر شہری کو قانون کے سامنے برابری کا تحفظ۔ یہی وہ اصول ہے جو عوامی اختیار کو جبر کے بجائے انصاف اور استحکام میں ڈھالتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا