پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون بنا کر عدالتی اختیار پر تجاوز کیا،عابد زبیری

0
142

اسلام آباد(طلوع نیوز)صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون کو عدالتی اختیار پر پارلیمان کا تجاوز قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ 2023 سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے تحریری جواب عدالت عظمیٰ میں جمع کرایا۔اپنے جواب میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون بنا کر عدالتی اختیار پر تجاوز کیا، یہ قانون آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے۔

جواب میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کے پاس رولز میں ترمیم کے خصوصی اختیارات ہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون کے سیکشنز 2، 4 اور 6 بینچز کی تشکیل سے متعلق ہیں۔عابد زبیری نے کہا کہ قانون کے سیکشن 2، 4 اور 6 آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات پر تجاوز ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی اختیارات کی تقسیم کا اصول پارلیمنٹ کو عدالتی اختیارات پر تجاوز سے منع کرتا ہے، آرٹیکل 191 کو الگ نہیں آئین کے عدلیہ سے متعلق دیگر آرٹیکلز کے ساتھ پڑھا جائے۔

صدر سپریم کورٹ عابد زبیری نے تحریری جواب میں ملکی و غیر ملکی عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق منظورہ کردہ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ کے خلاف دائر درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے

۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترامیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔عدالت عظمیٰ میں ایکٹ منظوری کے خلاف 4 درخواستیں دائر کی گئیں ہیں، 2 درخواستیں وکلا اور 2 درخواستیں شہریوں کی جانب سے دائر کی گئیں۔درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں، سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں بنے تھے، آرٹیکل 183/3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی حق نہیں دیا جا سکتا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا