جسٹس کامران خان ملاخیل نے قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کا حلف اٹھا لیا

0
384

کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک پروقار تقریب کے دوران جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب 20 اکتوبر 2025 کو کورٹ روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی، جہاں جسٹس اقبال احمد کاسی نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان، رجسٹرار عبدالقیوم لہڑی، سینئر جوڈیشل افسران، وکلاء اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

شرکاء نے جسٹس کامران ملاخیل کو نئے منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تقریب عدالتی روایات اور سادگی کے ساتھ منعقد کی گئی، جس نے عدلیہ کی وقار اور روایتی شان کو اجاگر کیا۔

جسٹس کامران خان ملاخیل 19 جنوری 1968 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور تمیر نو اسکولنگ سسٹم سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے کامرس میں گریجویشن و ماسٹرز، کمپیوٹر سائنس میں ڈپلومہ اور 1994 میں لاء کی ڈگری حاصل کی۔ 1995 میں وہ ایڈووکیٹ کے طور پر انرول ہوئے، بعدازاں ہائی کورٹ اور 2010 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔

اپنے قانونی کیریئر میں انہوں نے 18 برس سے زائد عرصہ سول، فوجداری اور آئینی مقدمات میں پریکٹس کی۔ کیس PLD 2012 بلوچستان 57 ان کا نمایاں مقدمہ رہا جس میں انہوں نے ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے جوڈیشل اختیارات ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بطور بار عہدیدار انہوں نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن، بار کونسل اور مختلف کمیٹیوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

2013 میں وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور 2015 میں مستقل جج بنے۔ اب تک وہ 4 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کر چکے ہیں اور عدالتی کمیٹیوں میں بطور ممبر و چیئرمین کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے 2016 کے سانحہ کوئٹہ کے بعد شہداء کے لواحقین کے لیے معاوضہ دلانے اور وکلاء کے لیے بیرونِ ملک اسکالرشپ پروگرام شروع کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔

عدالتی و قانونی حلقوں کو امید ہے کہ جسٹس ملاخیل کی قیادت میں عدالتی نظام مزید مؤثر، شفاف اور مضبوط ہوگا، اور صوبے میں انصاف کی فراہمی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا