غزہ میں بڑے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 42 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی حکام نے عرب میڈیا کے ذریعے اس کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ ساتھ ہی معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے بچنے کے لیے ایک نیا طریقہ کار طے کرنے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔
جنگ بندی کی بحالی کے لیے مصر، قطر، ترکی اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی افواج نے جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی بمباری کی، جس میں ایک ہی دن میں 42 فلسطینی شہید ہوئے۔ مجموعی طور پر صبح سے اب تک شہادتوں کی تعداد 45 بتائی گئی ہے۔
اسرائیل نے حماس کے مبینہ ٹھکانوں پر 120 راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا، تاہم ان حملوں میں عام شہری علاقے بھی بُری طرح متاثر ہوئے۔ بے گھر افراد کے خیموں، نصیرات کیمپ اور خان یونس کے شمال مغربی رہائشی حصوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
حماس نے اسرائیلی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا بہانہ ہیں اور نشانہ شہری آبادی ہی بنی ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 98 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے، تاہم صورتِ حال اب بھی نازک ہے اور مستقبل کے اقدامات کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔






