اسلام آباد میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت نیشنل سیمی کنڈکٹر پروگرام کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی، جس سے وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر کے حوالے سے بیانیے کی جنگ جاری ہے جبکہ پاکستان کو اس میدان میں قدرتی وسائل کی شکل میں برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور قوم کو آگاہ کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر پروگرام وقت کی اہم ترین ضرورت اور ایک تاریخی قدم ہے، حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منصوبے کے لیے ساڑھے چار ارب روپے مختص کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت مختلف منصوبے شروع کر چکی ہے، جن میں ایف بی آر ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹل والٹس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان میں 20 ارب روپے مستحقین کو براہ راست ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیمی کنڈکٹر جیسے شعبوں میں نوجوانوں کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب سے چیئرمین سیمی کنڈکٹر ٹاسک فورس نوید شیروانی نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیمی کنڈکٹر مستقبل میں ڈیٹا کے تحفظ کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا، اور خوشی ہے کہ پاکستان نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔
نیشنل سیمی کنڈکٹر پروگرام کے باضابطہ اجرا کی تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر جام کمال خان، خالد مگسی اور احسن اقبال بھی شریک ہوئے۔






