ٹرانس افغان ریلوے اور اسلام آباد تہران استنبول راہداری تجارت کے نئے باب کا آغاز ہوں گے، وزیراعظم

0
361

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ علاقائی تعاون اور دوطرفہ روابط کے فروغ سے معیشت، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں انقلاب برپا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ صدیوں سے تجارتی و ثقافتی راہداری رہا ہے اور آج کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و اقتصادی حالات نے اس قدیم گزرگاہ کو ایک نئی اسٹریٹجک اہمیت دے دی ہے۔

اسلام آباد میں ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جس سے چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت و توانائی کے تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانس افغان ریلوے اور اسلام آباد-تہران-استنبول ریلوے کوریڈور جیسے منصوبے خطے میں ریل رابطوں اور تجارت کے نئے باب کا آغاز کریں گے، جب کہ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ ہوائی روابط اور ٹی آئی آر کنونشن جیسے معاہدے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے چین، یوریشیائی خطے اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والا منفرد مرکز بناتی ہے، جبکہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں سمندری راستوں کو شاہراہِ ریشم سے جوڑتی ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ہمیشہ امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر یقین رکھا، 2013 میں ان ہی کے دور میں سی پیک کا آغاز ہوا جو آج بھی علاقائی خوشحالی کی بنیاد ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ چوتھے صنعتی انقلاب کی رفتار سے ہم آہنگ ہو سکے، جبکہ سنگل ونڈو سسٹم جیسے منصوبے تجارتی عمل کو جدید، تیز اور شفاف بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارت، توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں علاقائی اشتراک تمام ممالک کے لیے یکساں فائدہ مند ہے، ہمیں تعاون کے بیج بو کر آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی کی فصل اُگانی ہوگی۔

کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی وزرا عطا تارڑ، عبدالعلیم خان اور حنیف عباسی بھی شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ یہ کانفرنس خطے میں روابط اور تجارت کے فروغ کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا