پال بیا کے آٹھویں بار صدر بننے پر مظاہرے پھوٹ پڑے

0
325

دوالا: افریقی ملک کیمرون میں 92 سالہ حکمران پال بیا کے آٹھویں مرتبہ صدر بننے پر ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دارالحکومت یاونڈے اور تجارتی مرکز دوالا سمیت مختلف شہروں میں ہنگامے جاری ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پال بیا نے 53.66 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف عیسٰی چیروما باکاری نے 35.19 فیصد ووٹ لیے۔ اس کامیابی کے بعد بیا آٹھویں بار صدر منتخب ہوگئے ہیں اور 2033 تک تقریباً 100 سال کی عمر میں بھی اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن امیدوار چیروما باکاری نے ایک ہفتہ قبل ہی اپنی جیت کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کسی اور نتیجے کو قبول نہیں کریں گے۔ ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں بیا کی برتری ظاہر ہونے کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج شروع ہوگیا۔

دوالا میں مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں، ٹائروں کو آگ لگا دی اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جبکہ کئی علاقے مکمل طور پر سنسان ہو گئے۔

پال بیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر ان کی قیادت پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے انتخابی تشدد میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کم از کم چار افراد دوالا میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے جبکہ شمالی شہر گاروا میں بھی دو شہریوں کو گولی مار دی گئی۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پال بیا کو اب ایک کمزور عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ڈائریکٹر موری تھی موٹیگا نے کہا کہ بیا کو فوری طور پر قومی مفاہمتی عمل شروع کرنا چاہیے تاکہ صورتحال مزید نہ بگڑے۔

پال بیا 1982 سے اقتدار میں ہیں اور انہوں نے 2008 میں آئینی ترمیم کے ذریعے مدتِ صدارت کی حد ختم کر دی تھی۔ افریقہ کے دیگر ممالک کی طرح کیمرون میں بھی معمر حکمرانوں کی گرفت مضبوط ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پال بیا کی اپنی بیٹی برینڈا بیا نے انتخابات سے قبل ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے والد کو ووٹ نہ دیں، تاہم بعد میں اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا