ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کے بیان کے باوجود خلیجی خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے بحرین میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین کے علاقے الجفیر میں واقع امریکی فوجی اڈے کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی افواج نے بحرین کے الجفیر بیس سے کارروائی کرتے ہوئے ایران کے جزیرہ قشم میں قائم پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ الجفیر ایئر بیس کو ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ قشم کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 30 دیہات کی پانی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، جس پر ایران نے اسے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائی کو “قبیح اور مایوس کن جرم” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک خطرناک مثال قائم کرنے کے مترادف ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب بحرین کے حکام کے مطابق حملے کے بعد دارالحکومت منامہ کے علاقے الجفیر میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بعض مقامات سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ الجفیر کا علاقہ امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کے باعث خطے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور یہاں اہم امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
تاہم اب تک حملے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر آج سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب بھی ایک بیلسٹک میزائل گرا جو کھلے میدان میں گرنے کے باعث کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میزائل کس جانب سے داغا گیا تھا۔





