منی لانڈرنگ ، انیل امبانی گروپ کی اربوں کی جائیداد منجمد

0
338

بھارت میں منی لانڈرنگ اور قرضوں کے غلط استعمال سے متعلق ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا، جس نے سیاسی و کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ معاملہ 2017 سے 2019 کے دوران یس بینک سے لیے گئے 568 ملین ڈالر سے زائد قرضوں سے متعلق ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ری لائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ری لائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ نے قرض کی رقم کو میوچوئل فنڈز کے ذریعے ایسی کمپنیوں میں منتقل کیا جو بظاہر الگ تھیں مگر دراصل اسی گروپ سے منسلک تھیں۔

تحقیقی اداروں کے مطابق یہ رقوم مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ میں استعمال ہوئیں، جبکہ قرض کے حصول کے دوران مالیاتی ضوابط، دستاویزات اور شرائط کی بھی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یس بینک کے کچھ عہدیداروں کو رشوت دینے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

بھارتی مالیاتی جرائم کی تحقیقاتی ایجنسی (ED) نے کارروائی کرتے ہوئے ارب پتی صنعتکار انیل امبانی کے زیر انتظام ریلائنس گروپ کی 30.84 ارب روپے (تقریباً 351 ملین ڈالر) مالیت کی جائیدادیں منجمد کر دیں۔ ان اثاثوں میں ممبئی، دہلی اور چنئی میں واقع رہائشی و تجارتی جائیدادیں اور زمین کے قطعات شامل ہیں۔ بعض جائیدادیں انیل امبانی کے اہل خانہ کی ممبئی رہائش گاہ سے بھی منسلک ہیں۔

ای ڈی کے مطابق قرض کی رقم کو بار بار مختلف اداروں کے درمیان منتقل کرکے فنڈ ایورگریننگ اور فنڈ ری روٹنگ کے ذریعے عوامی رقم کے غلط استعمال کا جرم کیا گیا۔ مزید برآں، ری لائنس کمیونیکیشن لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنیوں میں بھی 136 ارب روپے (تقریباً 1.55 ارب ڈالر) کے فنڈز کے ممکنہ غلط استعمال کی تحقیقات جاری ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انیل امبانی گروپ نے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا