’’ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ قومی سلامتی، خارجہ یا اقتصادی پالیسی، یا بیرونی ممالک کے ساتھ قومی وسائل سے متعلق معاہدوں کے بارے میں نہ تو پارلیمنٹ میں کوئی بات ہوتی ہے اور نہ ہی اسے اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ امریکا کے ساتھ خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں اور امریکی صدر سے ملاقاتوں کی تفصیلات بھی پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔
امریکی کمپنیوں کے ساتھ قدرتی وسائل اور معدنیات کے معاہدے بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیے گئے۔ میان رضا ربانی نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ ایسا قانون بنائے جس کے تحت تمام بیرونی معاہدوں کی پارلیمانی منظوری تین ماہ کے اندر لازمی ہو تاکہ وہ مؤثر ہو سکیں۔ یہ سوال بھی کہ کیا پاکستانی فوجی غزہ بھیجے جائیں گے اور ان کا مینڈیٹ کیا ہوگا، وزراء کی طرف سے صرف ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا پر معاملہ اٹھایا جا رہا ہے، پارلیمنٹ میں نہیں۔ افغانستان کی صورتِ حال نہایت سنجیدہ ہے جو اندرونی اور بیرونی سلامتی دونوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

حکومت تیسرے فریق کے ذریعے مذاکرات کر رہی ہے، وزراء بیانات دے رہے ہیں مگر پارلیمنٹ خاموش ہے۔ پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایوانوں کے نگہبانوں کو چاہیے کہ حکومت کو جواب دہ بنائیں اور پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی اس سوچی سمجھی کوشش کا نوٹس لیں۔میان رضا ربانی نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ ناکام رہی تو تاریخ اس کی تباہی قلم کے ذریعے لکھے گی‘‘۔





