بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی تشدد بھڑک اٹھا۔ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے چٹوگرام میں بی این پی کی انتخابی ریلی پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور امیدوار سمیت دو افراد کو زخمی کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور ہجوم پر فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب سیاسی جماعتوں نے فروری 2026 کے عام انتخابات کے لیے اپنی مہمات شروع کی ہیں۔ گزشتہ سال شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخاب ہوگا، جس کے دوران ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔
بی این پی رہنماؤں نے فائرنگ کو انتخابی عمل کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پارٹی نے حالیہ دنوں میں اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے جس میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء اور ان کے بیٹے طارق رحمان بھی شامل ہیں۔
عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ فوج نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پرامن انتخابات کے لیے سیکیورٹی فراہم کرے گی۔
جماعت اسلامی نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے امیدواروں کی ابتدائی فہرست تیار کر لی ہے اور دیگر جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات کر رہی ہے۔






