کرپشن پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے؛ رپورٹ جاری

0
363

پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے اہم شرط پوری کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کی جانب سے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک میں کرپشن کو معاشی و سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، احتساب اور عدالتی ڈھانچے میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری اداروں سے منسلک طاقتور گروہوں کی جانب سے ہونے والی کرپشن سب سے خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے، جب کہ یہ دیرینہ مسئلہ ملکی ترقی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف سے بار بار قرض لینے کے باوجود بنیادی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ عوام معیارِ زندگی میں ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ حکومتی فیصلہ سازی میں شفافیت کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ کمزور اینٹی کرپشن اداروں اور غیر مستقل احتساب کے باعث ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بھی کم ہوا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ نیب سمیت احتسابی اداروں کو بااختیار، جدید اور مؤثر بنایا جائے، کیوں کہ اصلاحات پر عمل درآمد سے ملکی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ سرکاری اداروں میں جوابدہی کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی، مارکیٹ ریگولیشن، بینکنگ نگرانی اور کاروباری قوانین میں پیچیدگیاں سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ قرار دی گئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 11.1 فیصد کاروباری اداروں نے بدعنوانی کو اپنے کاروبار کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا، جو جنوبی ایشیا کے اوسط 7.4 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ کرپشن کے باعث اخراجات غیر مؤثر، ٹیکس وصولی کم، اور عدالتی نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔

رپورٹ میں گورننس بہتر بنانے کے لیے شفاف قوانین، معلومات تک آسان رسائی کے لیے اوپن ڈیٹا سسٹم، کاروباری ریگولیشن کو مکمل ڈیجیٹل بنانے، غیر ملکی تجارت کے ضابطوں میں بنیادی اصلاحات، اور نجی شعبے کو زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی پبلک سیکٹر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بہتر گورننس سے ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی اور کرپشن میں نمایاں کمی آئے گی۔

یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے حکومتی درخواست پر 8 ماہ میں پاکستان کی گورننس اور کرپشن کا جائزہ لیا۔ حکومتی اقدامات سے معیشت میں استحکام، پرائمری سرپلس میں اضافہ، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی رپورٹ کی گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا