پشاور کے علاقے بورڈ بازار میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں معروف عالم دین قاری عزت اللہ اپنے کم سن بیٹے سمیت جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق قاری عزت اللہ سفید ڈھیری کے ایک مدرسے میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ گاڑی میں گھر واپس جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں قاری عزت اللہ اور ان کا بیٹا علی موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ دوسرا بیٹا مرتضیٰ زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایس پی کینٹ احتراز خان پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے۔ قریبی علاقوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کو ٹارگٹ کلنگ سمیت مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔






