اسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، یو این جنرل اسمبلی میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

0
530

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک اہم قرارداد منظور کی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ’’فلسطین کے سوال کے پرامن حل‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا، جب کہ 11 نے مخالفت اور 11 نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔

قرارداد میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل سے متعلق تمام بنیادی معاملات پر قابلِ اعتماد مذاکرات فوری شروع کرنے اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں اسرائیل سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، غیر قانونی قبضہ ختم کرنے، نئی یہودی آبادکاری روکنے اور تمام آبادکاروں کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا جغرافیائی تبدیلی قبول نہیں، جبکہ غزہ اور مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد ہونا چاہیے۔ قرارداد کے مطابق اسرائیل کو 1967 سے قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی علاقوں سے واپس جانا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام اپنے حقِ خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب اسامہ افتخار احمد نے قرارداد پر بحث کے دوران کہا کہ عالمی برادری کو اب اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی آزادی، خود مختاری اور انصاف کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں مکمل سیزفائر، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور فوری تعمیرِ نو ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں کوئی جبری تبدیلی، الحاق یا بے دخلی قابلِ قبول نہیں، اور پائیدار امن کا واحد راستہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار، مسلسل اور متحد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا