روسی اور امریکی وفد کے مذاکرات میں کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر نے ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی جسے روسی حکام نے تعمیری قرار دیا، مگر یوکرین کی سرحدی صورتحال پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔
یوکرین اور یورپی ممالک پہلے ہی ٹرمپ کے امن نکات مسترد کر چکے تھے۔ بعض نکات کے مطابق روس نے یوکرین کی فوج محدود کرنے، ڈونباس پر کنٹرول اور زاپوریژیا و خیرسون میں اپنی موجودگی کا اعتراف مانگا تھا، جسے یوکرین نے سرنڈر کے برابر قرار دے کر رد کردیا۔ ٹرمپ نے جنگ کو پیچیدہ اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے امن مذاکرات کے مزید دور جاری رکھنے کی امید ظاہر کی۔






