بی بی سی: ستھرا پنجاب صفائی ماڈل برمنگھم پہنچ گیا

0
714

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ستھرا پنجاب صفائی ماڈل عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ کاپ 30، فوربز اور بلوم برگ کے بعد اب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی ستھرا پنجاب کو ایک قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ستھرا پنجاب ماڈل برطانیہ کے شہر برمنگھم تک پہنچ چکا ہے، جہاں تاریخ میں پہلی بار برطانوی والنٹیئرز گروپ نے صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب سے رہنمائی حاصل کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ برمنگھم میں اُبلتے کوڑے دانوں اور بار بار ہڑتالوں جیسے مسائل کے حل میں ستھرا پنجاب ماڈل مؤثر ثابت ہوا۔

پنجاب کے ماہرین اور برمنگھم کے رضاکاروں کے درمیان ڈیجیٹل پارٹنرشپ نے کئی مفروضوں کو بدل دیا، اور برطانوی والنٹیئرز نے اعتراف کیا کہ پنجاب سے سیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ مغرب میں رہتے ہوئے بھی شہری ذمہ داری کے معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے والنٹیئرز نے ستھرا پنجاب ٹیم کے ساتھ آن لائن مشاورت کی، جس کا پہلا رابطہ برازیل میں منعقدہ ماحولیاتی کانفرنس COP-30 کے دوران پاکستان پویلین پر ہوا، جہاں ستھرا پنجاب پروگرام کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او بابر صاحب دین نے برمنگھم کے رضاکاروں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس بھی کیا، جس میں پنجاب کے ویسٹ مینجمنٹ ماڈل اور مقامی مسائل کے حل کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔

بی بی سی نے ستھرا پنجاب کو ایک جدید اور مؤثر ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ دنیا بھر کے اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔ عالمی جریدے بلوم برگ نے بھی ستھرا پنجاب کے ویسٹ ٹو ویلیو پراجیکٹ کو اہم منصوبہ قرار دیا اور بتایا کہ یہ پروگرام ماحول دوست سرگرمیوں کے ذریعے پنجاب کی معیشت میں سالانہ تقریباً 300 ارب روپے کا اضافہ کر رہا ہے، جو اس کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا