وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے جمہوریہ ماریشس کے ہائی کمشنر ایچ ای منسو کرمباکس نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ماریشس کے ہائی کمشنر کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران بزنس ٹو بزنس روابط، تجارتی وفود کے تبادلوں اور نمائشوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
مریم نواز شریف نے ماریشس کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تعلیم، سیاحت، زراعت اور عوامی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
دونوں رہنماؤں نے حلال فوڈ، ٹیکنالوجی اور ہیومن ریسورس کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بلیو اکانومی میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماریشس کے لیے چاول، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے خواہاں ہیں، جبکہ پیداواری زراعت، چینی کی صنعت اور ویلیو ایڈیشن میں ماریشس کے تجربے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
مریم نواز شریف نے پنجاب کے سیاحت کے شعبے میں ماریشس کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا اور نوجوانوں کی ترقی، منشیات کے خلاف اقدامات اور تعلیمی خدمات پر ماریشس ہائی کمشنر کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ماریشس کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔ زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز اور لائٹ انجینئرنگ کے شعبوں میں تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ہنر مند بنایا جا رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ماریشس کے درمیان دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کلائمیٹ ریزیلنٹ ویژن ایکشن پلان کے تحت گرین سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کے فروغ، سبز نقل و حمل اور گرین انرجی کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
مریم نواز شریف نے پنجاب کی سیاحتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اندرون لاہور، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالیمار گارڈنز، نور محل اور دیگر مذہبی و تاریخی مقامات سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
ماریشس کے ہائی کمشنر منسو کرمباکس نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے ذریعے پاکستان کا مثبت اور حقیقی تشخص دنیا کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔





