ٹرمپ دور میں پاکستان ’وِنر‘، بھارت واضح ’لوزر‘ قرار:فارن پالیسی کا اعتراف

0
482

دنیا کے معتبر ترین امریکی جریدے فارن پالیسی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے دورِ صدارت میں پاکستان کو ’’وِنر‘‘ جبکہ بھارت کو واضح طور پر ’’لوزر‘‘ قرار دے دیا ہے۔

فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے واشنگٹن میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن اسٹریٹجک کم بیک کیا، جس کے نتیجے میں امریکا میں پاکستان کی ساکھ، رسائی اور اثرورسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے وہ اعتماد اور براہِ راست رسائی حاصل کی جو کئی قریبی امریکی اتحادی بھی حاصل نہ کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اس پیش رفت نے خطے کے سفارتی منظرنامے کو ازسرِنو تشکیل دیا، جبکہ واشنگٹن میں پاکستان کو ایک بار پھر سنجیدگی سے لیا جانے لگا۔ دہشت گردی کے ایک بڑے حملے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار نے ٹرمپ انتظامیہ کو فوری اور حوصلہ افزا سفارتی کامیابی دی، جس سے پاک امریکا تعلقات میں اعتماد بحال ہوا۔

فارن پالیسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کے ’’ٹرانزیکشنل‘‘ خارجہ پالیسی فریم ورک کے تحت عملی اور نتیجہ خیز سفارت کاری کی۔ کرپٹو کرنسی، اہم معدنی وسائل، تجارتی تعاون اور ممکنہ سودوں پر بات چیت بھی پاک امریکا روابط کا حصہ بنی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صدر ٹرمپ سے ان کی ذاتی قربت پاک امریکا تعلقات میں پیش رفت کی ایک اہم وجہ بنی۔ اوول آفس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال بھی اس قربت کی علامت قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی واشنگٹن واپسی کے مرکزی ستون بن کر ابھرے۔

امریکی جریدے کے مطابق عسکری قیادت کے مؤثر کردار نے واشنگٹن میں پاکستان کی آواز کو دوبارہ وزن دار بنایا اور پاکستان کو سفارتی سطح پر اسٹریٹجک برتری حاصل ہوئی۔

فارن پالیسی نے پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر بہتری کی راہ پر گامزن ہیں، تاہم اس موقع کو عملی نتائج میں بدلنا اب ناگزیر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی واشنگٹن میں مضبوط واپسی بھارت کے لیے ایک سفارتی دھچکا ثابت ہوئی۔ جہاں پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ’’وِنرز‘‘ میں شامل ہوا، وہیں بھارت ’’لوزرز‘‘ کی صف میں کھڑا نظر آیا۔

امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دور میں پاکستان نے سفارتی برتری حاصل کی جبکہ بھارت تجارتی دباؤ اور سرد مہری کا شکار رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، صدر ٹرمپ بھارتی تجارتی پالیسیوں سے نالاں ہیں، روس سے تیل کی خریداری بھی واشنگٹن کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ بنی۔

فارن پالیسی کے مطابق بھارت پر 50 فیصد ٹیرف برقرار ہیں جبکہ امریکا بھارت تجارتی معاہدہ تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا