امریکی میگزین دی ڈپلومیٹ نے پاکستان کو عالمی منظرنامے کا مرکز قرار دے دیا

0
439

امریکی میگزین دی ڈپلومیٹ نے پاکستان کو عالمی توجہ کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سال 2025 کئی برسوں بعد پاکستان کیلئے اسٹریٹجک واپسی اور عسکری اعتماد کی بحالی کا سال ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے ریاستی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف واضح اور مضبوط مؤقف اپنایا۔ آرمی چیف کی جانب سے یہ دوٹوک پیغام دیا گیا کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، جسے انتہا پسندی کے خلاف ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کی عسکری قیادت نے ریاستی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا، واضح وژن کے باعث ریاستی رٹ مضبوط ہوئی اور نظم و ضبط کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی فوجی جھڑپوں نے عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کی۔

امریکی میگزین کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران پاکستانی افواج کی کارکردگی نے عسکری توازن واضح کر دیا۔ محدود وسائل کے باوجود مؤثر ردِعمل نے پاکستان کی اسٹریٹجک ساکھ اور ڈیٹرینس کو مزید مضبوط کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے خلاف کامیاب دفاعی حکمتِ عملی نے پاکستانی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو نمایاں کیا، جبکہ افواجِ پاکستان کی کارکردگی عالمی دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنی۔ 2025 میں پاکستان کی فوج عالمی عسکری مباحث میں دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق ان کامیابیوں کے بعد عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد بحال ہوا اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ اس کے برعکس، پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارت کے واشنگٹن سے تعلقات دباؤ کا شکار رہے۔

امریکی میگزین نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے دفاعی معاہدوں کو بھی سٹریٹجک پیش رفت قرار دیا، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا بڑا دفاعی معاہدہ پاکستان کے علاقائی کردار کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دفاعی سازوسامان کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا، جبکہ جنگی حالات میں استعمال ہونے والے چینی دفاعی ہتھیاروں کی عملی کارکردگی پر چین نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کیلئے بھی عالمی ماحول سازگار قرار دیا گیا، جبکہ غزہ سے متعلق عالمی سفارتی کوششوں میں پاکستان کو ایک اہم فریق تسلیم کیا گیا۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے واضح اور مدلل مؤقف اپنایا، ٹی ٹی پی کے خلاف پالیسی میں فیصلہ کن سختی لائی گئی اور طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے مسلسل اقدامات کئے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے قطر، ترکیے اور سعودی عرب کو ثالثی کردار میں شامل کر کے سرحد پار خطرات کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ دہشت گردی کے خلاف اندرونِ ملک نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور مختلف ممالک کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہوا۔

امریکی میگزین کے مطابق انتہا پسندی کے خلاف مؤثر اقدامات ریاستی پالیسی کی نئی اور واضح علامت بنے، جبکہ عالمی حالات سے فائدہ اٹھا کر اصلاحات کا ایک نادر موقع پاکستان کو میسر آیا۔ معاشی مشکلات کے باوجود پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں بعد ایک بڑی پیش رفت اور ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ قرار دی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا