مودی حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بے نقاب

0
112

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، تعصب اور عدم برداشت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2014 کے بعد سے، جب مودی اقتدار میں آئے، مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اخبار کے مطابق مسلمان، جو بھارت کی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں، انتہاپسند ہندو گروہوں کے سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ مسلمانوں کو رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ ڈالنے جیسے بنیادی حقوق میں شدید امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں انہیں ووٹنگ سے روکا جاتا ہے اور ہندو اکثریتی علاقوں میں کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث مسلمان مخصوص آبادیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی برادری، جو بھارت کی آبادی کا صرف 2.3 فیصد ہے اور جن میں سے بڑی تعداد غریب طبقات سے تعلق رکھتی ہے، وہ بھی بڑے پیمانے پر نفرت اور انتہاپسندوں کی غنڈہ گردی کا شکار ہے۔ صرف 2025 میں عیسائیوں کے خلاف 706 واقعات رپورٹ ہوئے، جنہیں اکثر زبردستی مذہب کی تبدیلی روکنے کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔

اخبار کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں کرسمس کے دن اسکول کھلے رکھنے کا حکم دیا گیا، جس پر مسیحی برادری نے تشویش کا اظہار کیا۔ کرسمس تقریبات کے دوران کئی مقامات پر انتہاپسند ہندو گرجا گھروں کے باہر جمع ہوئے، نعرے بازی کی اور بلند آواز میں مذہبی دعائیں پڑھیں۔ ایسے واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار متعدد ریاستوں میں دیکھے گئے۔

وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ بھارت میں سیکولرازم کبھی بھی مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں رہا، تاہم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیکولرازم کا دکھاوا بھی ختم ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت تک نہیں کی، جسے انتہاپسند عناصر کے لیے خاموش منظوری سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے، کیونکہ وہاں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو بغیر کسی روک ٹوک اور سزا کے جاری رہنے دیا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا