امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کی ویڈیو ایک ٹی وی شو کی طرح لائیو دیکھی۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ یہ ویڈیو انہوں نے فلوریڈا میں فوجی جنرلز کے ساتھ دیکھی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق نکولس مادورو کو امریکی بحری جہاز کے ذریعے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان پر منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مین ہیٹن کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مادورو کے خلاف اس کارروائی کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل سے جاری تھی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس میں کچھ امریکی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وینزویلا میں آئندہ حکومت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے کارروائی میں حصہ لیا جبکہ ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔
وینزویلا کی حکومت نے امریکی حملے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کارروائی کا اصل مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔





