مفت چیٹ جی پی ٹی کا دور ختم، جلد اشتہار چلیں گے

0
691

مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ اگرچہ چیٹ جی پی ٹی میں تاحال اشتہارات متعارف نہیں کرائے گئے، تاہم آئندہ چند ہفتوں میں ان کا تجربہ شروع کیا جائے گا۔ یہ اقدام سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کی جانب سے اپنے 80 کروڑ سے زائد صارفین، جن میں اکثریت مفت صارفین کی ہے، سے آمدنی حاصل کرنے کی ایک تازہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کی موجودہ مالیت تقریباً 500 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، تاہم کمپنی کے اخراجات اس کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں، جس کے باعث وہ منافع بخش بزنس ماڈلز کی تلاش میں ہے۔ معروف کہاوت کے مطابق، ’’اگر کوئی سروس مفت ہو تو دراصل صارف خود ہی پروڈکٹ ہوتا ہے۔‘‘

اوپن اے آئی میں ایپلیکیشنز کی سی ای او فجی سیمو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے جوابات کو متاثر نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے جواب کے نیچے اس وقت دکھائے جائیں گے جب صارف کی موجودہ گفتگو سے متعلق کسی سپانسرڈ پروڈکٹ یا سروس کا امکان ہو۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ تمام اشتہارات واضح طور پر لیبل کیے جائیں گے اور انہیں اصل جواب سے الگ رکھا جائے گا۔ اوپن اے آئی کے مطابق اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کے بنیادی مشن، یعنی انسانیت کے فائدے کے لیے اے آئی کی ترقی، کی حمایت کرے گی۔

اوپن اے آئی کے بڑے حریف گوگل اور میٹا پہلے ہی ڈیجیٹل اشتہارات کے شعبے پر حاوی ہیں اور اپنی بعض اے آئی سہولیات میں اشتہارات دکھا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اوپن اے آئی کا آغاز ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر ہوا تھا، جس کا مقصد محفوظ اور انسان دوست اے آئی تیار کرنا تھا، تاہم گزشتہ سال کمپنی نے اپنی ملکیتی ساخت تبدیل کرتے ہوئے خود کو پبلک بینیفٹ کارپوریشن میں بدل لیا۔

سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کی میرینڈا بوگن کے مطابق ذاتی نوعیت کے اشتہارات متعارف کرانا اوپن اے آئی کو ایک خطرناک راستے پر ڈال سکتا ہے، جس پر اس سے قبل سوشل میڈیا کمپنیاں چل چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ چیٹ بوٹس کو صرف معلومات کے لیے نہیں بلکہ ساتھی اور مشیر کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، ایسے میں صارف کے اعتماد سے فائدہ اٹھا کر اشتہارات بیچنا ایک سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔

اوپن اے آئی کو اگرچہ سبسکرپشنز سے کچھ آمدنی حاصل ہوتی ہے، مگر اے آئی سروسز کو چلانے کے لیے درکار مہنگی کمپیوٹر چپس اور ڈیٹا سینٹرز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اسے مزید وسائل درکار ہیں۔

سرمایہ کاروں میں یہ خدشات بھی پائے جا رہے ہیں کہ آیا اوپن اے آئی اپنے بڑے حمایتیوں، جیسے اوریکل اور این ویڈیا، کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے کافی منافع کما سکے گی یا نہیں، جس سے اے آئی ببل کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بہت سے لوگ اے آئی کا بھرپور استعمال چاہتے ہیں مگر اس کے لیے ادائیگی نہیں کرنا چاہتے، اسی لیے انہیں امید ہے کہ اشتہارات پر مبنی ماڈل کامیاب ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق صارفین کو میٹا کے انسٹاگرام اشتہارات اس لیے پسند آتے ہیں کیونکہ وہ انہیں ایسی چیزیں دکھاتے ہیں جن کی وہ خود تلاش نہیں کرتے۔

فارسٹر کے تجزیہ کار پیڈی ہیرنگٹن کا کہنا ہے کہ اگرچہ اوپن اے آئی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات یا پرامپٹس کو اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرے گا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہ وعدہ کب تک قائم رہتا ہے۔ ان کے مطابق مفت خدمات درحقیقت کبھی مکمل طور پر مفت نہیں ہوتیں اور عوامی اے آئی پلیٹ فارمز کو بالآخر آمدنی پیدا کرنا ہی پڑتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا