سیلفیاں مہنگی پڑ گئیں: جنوبی کوریا فضائیہ کا حادثے پر اعتراف اور معذرت

0
382

جنوبی کوریا کی فضائیہ نے ساڑھے چار سال قبل پیش آنے والے ایک خطرناک فضائی حادثے پر باضابطہ معذرت کر لی ہے، جس کی تحقیقات میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ دسمبر 2021 میں ڈائیگو کے قریب ایک تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا، جہاں دو F-15 لڑاکا طیارہ آپس میں ٹکرا گئے تھے۔

ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ واضح نہ ہو سکی، تاہم حالیہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ دونوں طیاروں کے پائلٹس دورانِ پرواز سیلفیاں لینے اور ویڈیو بنانے میں مصروف تھے، جس نے صورتحال کو خطرناک بنا دیا۔

تحقیقات کے مطابق ایک پائلٹ، جو اپنی یونٹ کے ساتھ آخری پرواز کر رہا تھا، بہتر ویڈیو بنانے کی کوشش میں بغیر اجازت طیارے کو تیزی سے اوپر لے گیا اور خطرناک انداز میں موڑ دیا، جبکہ دوسرا پائلٹ اس عمل کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ اسی دوران دونوں طیارے ایک دوسرے کے قریب آگئے اور ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کے باوجود ایک جہاز کا پچھلا حصہ دوسرے کے وِنگ سے جا ٹکرایا۔

حادثے میں تقریباً 6 لاکھ ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

رپورٹ میں ونگ مین پائلٹ کو حادثے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا، جس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی گئی، اسے پرواز سے معطل کیا گیا اور بعد ازاں وہ فضائیہ چھوڑ چکا ہے۔ اسے مرمت کے اخراجات کا کچھ حصہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

رپورٹ میں فضائیہ کے حفاظتی نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور پرواز کے دوران ویڈیو بنانے سے متعلق نگرانی کو ناکافی قرار دیا گیا۔

جنوبی کوریا کی فضائیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی قوانین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ پرواز کے دوران کسی بھی غیر ضروری سرگرمی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا