امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 18 گھنٹے کا طویل سفر اس وقت فائدہ مند نہیں، اس لیے وفد کا دورہ منسوخ کیا گیا۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور ایران جب چاہے براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب بینجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج کو لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر “طاقت سے” حملہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے بار بار سیز فائر کی خلاف ورزیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے جواب میں سخت فوجی کارروائی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
ادھر حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں خطے کی تازہ صورتحال اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب عسکری اقدامات میں اضافہ خطے کو مزید غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل سکتا ہے۔






