واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوران فائرنگ کرنے والے ملزم کی جانب سے حملے سے چند منٹ قبل اہلخانہ کو بھیجا گیا پیغام سامنے آ گیا ہے، جس میں اس نے اپنے اقدام پر معذرت کے ساتھ غصے کا اظہار بھی کیا۔
امریکی حکام کے مطابق ملزم کول ٹوماس ایلن نے فائرنگ سے تقریباً 10 منٹ پہلے اپنے اہلخانہ کو پیغام بھیجا، جس میں اس نے لکھا کہ وہ ایک اہم کام کرنے جا رہا ہے اور اس پر معافی کا طلبگار ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں ملزم نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ہیلٹن ہوٹل میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی زیادہ خطرناک حملہ آور ہوتا تو مزید مہلک ہتھیار بھی اندر لا سکتا تھا۔
ملزم کے مطابق سکیورٹی زیادہ تر باہر موجود مظاہرین اور آنے والوں پر مرکوز تھی، جبکہ اندرونی سکیورٹی میں واضح کمزوریاں موجود تھیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ متعدد ہتھیاروں کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوا لیکن کسی نے اسے مشکوک نہیں سمجھا۔
حکام کے مطابق ملزم نے قانونی طور پر دو ہینڈ گنز اور ایک شاٹ گن خرید رکھی تھی اور وہ باقاعدگی سے شوٹنگ رینج میں پریکٹس بھی کرتا تھا۔ مزید یہ کہ اس پر آج فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ سکیورٹی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، خاص طور پر ایسے حساس ایونٹس میں جہاں اعلیٰ حکومتی شخصیات موجود ہوں۔






