سندر شعیب
عدالت کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں انصاف کی آخری امید سمجھی جاتی ہے۔ ایک عام شہری جب اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ دراصل ریاست سے یہ یقین مانگ رہا ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کا معیار ایک ہے اور فیصلہ کسی دباؤ، مصلحت یا ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے قانون اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔ اسی لیے عدالت کی اصل طاقت صرف آئین، قانون یا ریاستی اختیار سے نہیں آتی بلکہ عوام کے اعتماد سے آتی ہے۔پاکستان کے سپریم کورٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ عدلیہ کے لیے عوام کا اعتماد اس کا نہایت قیمتی اثاثہ ہے اور اگر فیصلے قانون کے بجائے حکومتی پسند یا بیرونی اثرات کے تابع ہونے لگیں تو عدلیہ کی ساکھ اور اخلاقی اختیار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیا ہے۔یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے کسی بھی عدالتی نظام میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے پاس نہ فوج ہوتی ہے، نہ پولیس کا پورا انتظام اس کے ماتحت ہوتا ہے اور نہ ہی قومی خزانے پر براہِ راست اختیار۔ اس کے احکامات کی طاقت اس یقین سے پیدا ہوتی ہے کہ ریاستی ادارے اور شہری عدالت کے فیصلے کو قانون کی بالادستی کا اظہار سمجھتے ہیں۔ اگر یہ یقین ختم ہوجائے تو عدالت کا فیصلہ قانونی طور پر نافذ ہونے کے باوجود اخلاقی اور سماجی قبولیت کھونا شروع کردیتا ہے۔
عوام کا اعتماد ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی حکومتی اعلان سے بحال کیا جاسکتا ہے۔ یہ اعتماد برسوں کی غیر جانب داری، شفافیت، بروقت انصاف، مساوی سلوک اور احتساب سے بنتا ہے۔ برطانوی عدالتی نظام بھی اس امر پر زور دیتا ہے کہ عوام کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ مقدمات قانون اور متعلقہ حقائق کے مطابق طے کیے جائیں گے اور جج بیرونی دباؤ سے آزاد ہوں گے۔پاکستان جیسے ملک میں اس سوال کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں سیاسی اختلافات اکثر عدالتوں تک پہنچتے ہیں۔ انتخابات، حکومت سازی، پارلیمانی معاملات، بنیادی حقوق، نیب، احتساب، گرفتاریوں اور سیاسی مقدمات سے متعلق فیصلے براہِ راست عوامی جذبات کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عدالت کے ہر فیصلے کو سیاسی عینک سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہوجائے تو سب سے زیادہ نقصان خود عدالتی ادارے کو ہوتا ہے۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: عدالت کا فیصلہ کسی فریق کو پسند نہ آنا اور عدالت پر اعتماد ختم ہوجانا دو الگ چیزیں ہیں۔ ہر مقدمے میں ایک فریق کامیاب اور دوسرا ناکام ہوتا ہے۔
شکست خوردہ فریق کا فیصلے سے اختلاف فطری ہے۔ لیکن اگر معاشرے کے ایک بڑے حصے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ فیصلے قانون کے بجائے سیاسی وابستگی، حکومتی دباؤ یا کسی مخصوص طبقے کے مفاد سے متاثر ہوتے ہیں تو معاملہ محض ایک مقدمے کے فیصلے تک محدود نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام انصاف کی ساکھ کا سوال بن جاتا ہے۔اسی لیے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ عدلیہ کا احتساب بھی ضروری ہے۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ادارہ سوال سے بالاتر ہوجائے۔ ایک آزاد جج وہ ہے جو حکمران سے بھی آزاد ہو، اپوزیشن سے بھی، میڈیا سے بھی، سوشل میڈیا کے دباؤ سے بھی اور اپنی ذاتی پسند سے بھی۔ لیکن اسی آزادی کے ساتھ شفافیت، پیشہ ورانہ معیار اور اخلاقی ذمہ داری بھی لازم ہے۔جون 2026 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں بھی اس اصول کو نمایاں کیا گیا کہ جب کسی عدالتی افسر کی دیانت داری پر عوامی اعتماد ٹوٹ جائے اور اس کا طرزِ عمل عدالتی ادارے کی اخلاقی حیثیت کو متاثر کرے تو معاملہ محض ذاتی بدنامی نہیں رہتا بلکہ قانون کی حکمرانی کے پورے ڈھانچے کو متاثر کرسکتا ہے۔اس تناظر میں عدالتوں کو اپنے فیصلوں کے ذریعے صرف قانون کی تشریح نہیں کرنی بلکہ عوام کو یہ بھی دکھانا ہوتا ہے کہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے۔
ایک عام شہری اور ایک طاقتور سیاسی شخصیت، ایک غریب مزدور اور ایک بڑے کاروباری، ایک سرکاری افسر اور ایک عام سائل—سب عدالت میں قانون کے سامنے برابر نظر آنے چاہئیں۔انصاف میں تاخیر بھی اعتماد کو کمزور کرنے والی بڑی وجہ ہے۔ برسوں تک مقدمات چلتے رہیں، نسلیں عدالتوں کے چکر لگاتی رہیں اور فیصلہ اس وقت آئے جب فریقین میں سے کوئی دنیا میں موجود ہی نہ ہو تو قانون کی کتاب میں انصاف موجود ہونے کے باوجود عملی زندگی میں اس کی قدر کم ہوجاتی ہے۔ عوام کے لیے انصاف صرف درست فیصلہ نہیں بلکہ بروقت فیصلہ بھی ہے۔اسی طرح عدالتی زبان اور کارروائی کو عام شہری کے لیے قابلِ فہم بنانا بھی ضروری ہے۔ اگر عدالت کے فیصلے انتہائی پیچیدہ قانونی زبان میں ہوں اور سائل یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کے حق میں یا خلاف کیا فیصلہ ہوا ہے تو عدالت اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔ جدید عدالتی نظام دنیا بھر میں شفافیت، رسائی، کارکردگی اور صارفین کے تجربے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ سے وابستہ حالیہ اصلاحاتی بحث میں بھی عوامی اعتماد کو شفافیت، احتساب، کارکردگی اور قابلِ پیمائش نتائج سے جوڑا گیا ہے۔یہاں میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔
عدالتوں پر تنقید جمہوری معاشرے میں جائز ہے، لیکن تنقید اور ادارے کی ساکھ تباہ کرنے میں فرق ہونا چاہیے۔ کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اس کی قانونی خامیاں بیان کی جائیں، اپیل کا راستہ اختیار کیا جائے اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اگر ہر ناپسندیدہ فیصلہ فوراً “جانبدارانہ” یا “سیاسی” قرار دے دیا جائے تو عوام کے ذہن میں عدالت کے بارے میں مستقل بداعتمادی پیدا ہوسکتی ہے۔دوسری طرف عدالتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کا شہری پہلے کی نسبت کہیں زیادہ باخبر ہے۔ عدالتی کارروائی، فیصلے اور ججوں کے ریمارکس چند لمحوں میں پورے ملک میں زیر بحث آجاتے ہیں۔ اس لیے اداروں کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “ہم آزاد ہیں”؛ آزادی کا عملی ثبوت فیصلوں کے معیار، طریقہ کار کی شفافیت اور ہر فریق کے ساتھ مساوی سلوک سے دینا ہوگا۔عدلیہ کی طاقت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب عدالت کے سامنے طاقتور شخص کھڑا ہو۔ کمزور کے خلاف فیصلہ دینا آسان ہوسکتا ہے، مگر طاقتور کو قانون کے سامنے جواب دہ بنانا ہی قانون کی حکمرانی کی حقیقی آزمائش ہے۔
اسی طرح کسی مقبول شخصیت کے خلاف فیصلہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی غیر مقبول شخص کے حق میں فیصلہ دینا۔ انصاف کا معیار مقبولیت نہیں بلکہ قانون ہونا چاہیے۔پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب عدالتوں کے بارے میں عوامی اعتماد مضبوط ہوا تو عدلیہ نے ریاستی طاقت کے سامنے ایک مؤثر آئینی دیوار کا کردار ادا کیا، لیکن جب عدالتی ادارے سیاسی تنازعات میں فریق نظر آنے لگے تو ان کی اخلاقی قوت متاثر ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی ماضی میں خبردار کیا تھا کہ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہونے اور قانون کی حکمرانی کے زوال سے آمرانہ اور جابرانہ قوتوں کے لیے جگہ پیدا ہوسکتی ہے۔لہٰذا آج اصل سوال یہ نہیں کہ عدالت کے پاس اختیار کتنا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس اختیار پر عوام کا اعتماد کتنا ہے؟آئین عدالت کو اختیار دیتا ہے، قانون اسے دائرہ کار فراہم کرتا ہے، جج اسے عملی شکل دیتے ہیں، لیکن عدالت کو اخلاقی طاقت عوام کے اعتماد سے ملتی ہے۔ اگر شہری کو یقین ہو کہ عدالت میں اس کی بات سنی جائے گی، مخالف کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو قانون اس کے حق میں کھڑا ہوگا اور فیصلہ شفاف و غیر جانب دار ہوگا تو عدالت ایک مضبوط ادارہ بن جاتی ہے۔
لیکن اگر عام شہری عدالت جانے سے پہلے ہی یہ سوچ لے کہ فیصلہ طاقت، تعلقات یا سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر ہوگا تو پھر عدالت کی عمارت اپنی جگہ موجود رہتی ہے، قانون کی کتابیں اپنی جگہ موجود رہتی ہیں، جج اپنی نشست پر موجود رہتے ہیں، مگر انصاف کے نظام کی روح کمزور ہوجاتی ہے۔اسی لیے اعتماد کی بحالی کسی ایک جج، ایک فیصلے یا ایک مقدمے کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عدلیہ کو آزادی کے ساتھ احتساب، حکومت کو عدالتی آزادی کا احترام، وکلا کو پیشہ ورانہ اخلاقیات، میڈیا کو ذمہ دارانہ تنقید اور سیاسی جماعتوں کو عدالتوں کو سیاسی جنگ کا میدان بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔آخرکار عدالت کی سب سے بڑی طاقت اس کا حکم نہیں بلکہ اس حکم کی عوامی قبولیت ہے۔ جس عدالت پر عوام کو یقین ہو، اس کا فیصلہ کمزور ترین قلم سے بھی طاقتور ترین شخص کو قانون کے سامنے جھکا سکتا ہے؛ اور جس عدالت پر اعتماد باقی نہ رہے، اس کے پاس اختیار ہونے کے باوجود اس کی اخلاقی طاقت مسلسل کم ہوتی چلی جاتی ہے۔اس لیے یہ سوال محض ایک عنوان نہیں بلکہ ریاستی نظام کے مستقبل کا سوال ہے: اعتماد کے بغیر عدالت کی حیثیت کیا؟ جواب واضح ہےعدالت قانوناً موجود رہ سکتی ہے، مگر انصاف کی حقیقی قوت اسی وقت قائم رہتی ہے جب عوام کو یقین ہو کہ عدالت میں ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔




