ایران کے معاشی حالات اور عوام کی حالتِ زار

0
446
سندر شعیب ایڈووکیٹ

سندر شعیب

ایران آج ایک ایسے معاشی بحران سے گزر رہا ہے جس کی شدت صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایک طرف امریکی پابندیاں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں اور خطے میں جاری جنگ نے ایرانی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے، دوسری طرف برسوں سے جاری مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، کمزور سرمایہ کاری اور ساختی مسائل نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ایرانی معیشت مالی سال 2025-26 میں تقریباً 2.7 فیصد سکڑی، جبکہ آئندہ کی صورتحال کا انحصار جنگ، تیل کی برآمدات، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستوں کی بحالی پر ہے۔موجودہ بحران میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو مہنگائی ہے۔ حالیہ ایرانی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں سالانہ افراطِ زر تقریباً 66 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ سال بہ سال بنیاد پر خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں اضافہ 128 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ بعض بنیادی اشیاء کی قیمتیں ایک سال میں دوگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں۔اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی شہری کی آمدن اگر کاغذ پر بڑھ بھی رہی ہو تو حقیقی معنوں میں اس کی زندگی آسان نہیں ہو رہی۔

ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے رواں سال پنشن میں 40 فیصد اضافہ کیا، لیکن ایک ریٹائرڈ خاتون نے بتایا کہ اس اضافے کے باوجود بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہے۔ کرایوں، خوراک، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں آمدن میں اضافے سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔مزدور طبقہ اس بحران کا سب سے بڑا شکار ہے۔ ایرانی لیبر ذرائع کے مطابق ایک کم از کم اجرت لینے والے کارکن کی ماہانہ آمدن بنیادی اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم رہ گئی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق کم از کم اجرت تقریباً 25 ملین تومان جبکہ چار افراد پر مشتمل محنت کش خاندان کے کم از کم ماہانہ اخراجات 90 ملین تومان کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس فرق نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔یہاں سوال صرف روٹی، گوشت، دودھ یا سبزی کی قیمت کا نہیں بلکہ ایک پورے معاشرتی ڈھانچے کے دباؤ میں آنے کا ہے۔

جب خاندان اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک اور کرائے پر خرچ کرنے لگیں تو تعلیم، صحت، تفریح اور بچت سب سے پہلے قربان ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں صارفین کے رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔ لوگ مہنگی اشیا خریدنے سے گریز کر رہے ہیں، بعض خاندان ضروریات کو مؤخر کر رہے ہیں اور ادائیگی کو قسطوں میں تقسیم کرنے والے طریقوں کی طرف جا رہے ہیں۔ایرانی ریال کی مسلسل گرتی قدر نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کرنسی کی کمزوری کا براہِ راست اثر درآمدی اشیا، ادویات، مشینری، خام مال اور خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک ایسا چکر پیدا ہوتا ہے جس میں قیمتیں بڑھتی ہیں، اجرتیں پیچھے رہ جاتی ہیں، قوتِ خرید کم ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

تاہم ایران کی معاشی مشکلات کو صرف امریکی پابندیوں کا نتیجہ قرار دینا بھی مکمل تصویر نہیں۔ پابندیوں نے یقینی طور پر معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، مگر ایرانی معیشت کئی برس سے کم سرمایہ کاری، توانائی کے شعبے میں مسائل، پانی کی قلت، بجلی کے بحران، بینکاری کی مشکلات اور انتظامی کمزوریوں جیسے داخلی مسائل سے بھی دوچار ہے۔ عالمی بینک نے بھی پانی اور توانائی کی قلت، کمزور سرمایہ کاری اور مالی پابندیوں کو معاشی امکانات کے لیے اہم خطرات قرار دیا ہے۔حالیہ جنگ نے ان مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ تیل ایران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تجارتی رکاوٹوں نے تیل کی ترسیل اور برآمدات کو متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق جنگ، پابندیوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے ایرانی حکومت کے لیے مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ نئی امریکی پابندیوں کا خطرہ صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔یہ بحران صرف معاشی نہیں، سیاسی بھی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب مہنگائی طویل عرصے تک عوام کی آمدن کو کھا جائے، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں تو معاشی شکایات سیاسی بے چینی میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ ایران میں ماضی میں بھی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث احتجاجی تحریکیں سامنے آتی رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں حکومت کو ایک طرف بیرونی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اسے عوامی اطمینان برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔اس کے باوجود ایران کی معیشت مکمل طور پر منہدم نہیں ہوئی۔ یہی پہلو قابلِ غور ہے۔ کئی دہائیوں کی پابندیوں نے ایرانی کاروبار، حکومت اور عوام کو ایک ایسی “بقا کی معیشت” اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے جس میں غیر رسمی تجارت، متبادل مالیاتی راستے، محدود وسائل میں پیداوار اور مختلف ممالک کے ساتھ غیر روایتی تجارتی روابط شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید دباؤ کے باوجود ایرانی معیشت ابھی تک بنیادی طور پر کام کر رہی ہے۔

لیکن کسی معیشت کا صرف زندہ رہنا کافی نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی تب ہے جب اس کے شہری باعزت زندگی گزار سکیں۔ اگر ایک ملک تیل، گیس، معدنیات، صنعتی صلاحیت، بڑی آبادی اور تعلیم یافتہ افرادی قوت رکھنے کے باوجود اپنے شہریوں کو مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی سے محفوظ نہ رکھ سکے تو پالیسیوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہداف کے ساتھ معاشی استحکام میں توازن کیسے پیدا کرتا ہے۔ ایک طویل جنگ اور مستقل پابندیوں کی قیمت بالآخر ریاست ہی نہیں بلکہ عام شہری ادا کرتا ہے۔ بچے مہنگی خوراک سے متاثر ہوتے ہیں، نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہوتے ہیں، پنشنرز اپنی ضروریات محدود کرتے ہیں اور متوسط طبقہ آہستہ آہستہ اپنی جمع پونجی ختم کرتا جاتا ہے۔

ایرانی حکومت کے لیے محض سبسڈی یا وقتی مالی امداد کافی نہیں ہوگی۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سیاسی کشیدگی میں کمی، بیرونی تجارت کی بحالی، تیل کی برآمدات کے لیے محفوظ راستے، سرمایہ کاری کا فروغ، کرنسی کا استحکام اور اندرونی معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ عالمی بینک کے تخمینوں میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلند مہنگائی اور حقیقی آمدنی میں کمی ملکی طلب اور غربت دونوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ایران کی موجودہ صورتحال دنیا کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے۔ معاشی پابندیاں حکومتوں کو دباؤ میں ضرور لاتی ہیں، لیکن ان کا سب سے فوری اور شدید اثر اکثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔ جب خوراک، دوا، روزگار اور رہائش مہنگی ہوجائے تو پابندیوں کا بوجھ سیاسی اشرافیہ سے پہلے عام خاندان اٹھاتے ہیں۔آج ایران کے بازاروں میں موجود بحران دراصل صرف ریال کی گرتی قدر یا مہنگائی کا بحران نہیں؛ یہ عوام کی قوتِ خرید، امید اور مستقبل کے اعتماد کا بحران ہے۔ ایران کے پاس وسائل بھی ہیں، انسانی صلاحیت بھی اور علاقائی اہمیت بھی۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ وسائل عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے یا ملک طویل عرصے تک جنگ، پابندیوں اور معاشی دباؤ کے دائرے میں گھومتا رہے گا۔ایران کے عوام کو شاید کسی نئے نعرے سے زیادہ استحکام، روزگار، سستی خوراک، قابلِ برداشت رہائش اور ایک پُرامن مستقبل کی ضرورت ہے۔ اگر معاشی بحران کا حل سیاسی اور سفارتی راستے سے تلاش کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کے فوائد محسوس کرے گا۔ لیکن اگر معاشی دباؤ اور جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو اس کی قیمت ایرانی عوام کے ساتھ پورے خطے کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا