نئے صوبوں کا قیام،آئینی تقاضے اور طریقۂ کار

0
7
سندر شعیب ایڈووکیٹ

سندر شعیب قانون دان

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی بات نہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ محض سیاسی نعرے کے بجائے انتظامی، معاشی اور آئینی ضرورت کے طور پر بھی سامنے آتا رہا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے، بڑے صوبوں کے انتظامی مسائل، دور دراز علاقوں کی محرومیاں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے سوالات نے نئے صوبوں کے مطالبے کو ایک بار پھر قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، پوٹھوہار اور دیگر علاقوں میں مختلف اوقات میں صوبے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔نئے صوبے بنانا اگرچہ سیاسی طور پر ایک حساس معاملہ ہے، لیکن اس کے لیے آئین نے واضح طریقۂ کار وضع کر رکھا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمانی طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جبکہ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے خصوصی آئینی تقاضے بھی موجود ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق اگر کسی آئینی ترمیم کا مقصد کسی صوبے کی حدود میں ردوبدل کرنا ہو تو اس ترمیم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے کے علاوہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔

اس آئینی تقاضے سے واضح ہوتا ہے کہ نئے صوبے کا قیام محض وفاقی حکومت یا پارلیمنٹ کے ایک فیصلے سے ممکن نہیں۔ اگر کسی موجودہ صوبے کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنایا جانا ہو تو متعلقہ صوبے کی اسمبلی کی رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سیاسی اختلافات اکثر نئے صوبوں کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو سیاسی اتفاق رائے ہے۔ صوبوں کی تشکیل صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ اسمبلیوں، ہائی کورٹ، سرکاری محکموں، مالیاتی وسائل، ملازمین، پولیس، عدلیہ، بلدیاتی نظام اور انتظامی ڈھانچے کی نئی تقسیم بھی کرنا پڑتی ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے بعد یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے، قومی مالیاتی کمیشن میں اس کا حصہ کس بنیاد پر طے ہوگا اور وفاق و دیگر صوبوں کے درمیان مالیاتی ذمہ داریوں کی نئی تقسیم کیسے ہوگی۔نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں کے انتظامی حجم کو کم کرنے سے عوام کو سرکاری اداروں تک رسائی بہتر مل سکتی ہے۔ دور دراز علاقوں کو اپنا انتظامی مرکز حاصل ہونے سے ترقیاتی منصوبہ بندی میں مقامی ترجیحات کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔

ان کے نزدیک نئے صوبے وسائل کی تقسیم، روزگار، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔اس کے برعکس مخالفین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، عدالتیں، سرکاری رہائش گاہیں، محکمے اور دیگر ادارے قائم کرنے کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔ اگر نئے صوبے مضبوط معاشی بنیاد کے بغیر قائم کیے گئے تو وہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے وفاق پر زیادہ انحصار کرسکتے ہیں۔اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کن اصولوں، معاشی بنیادوں اور انتظامی تقاضوں کے تحت کی جائے؟آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت، معاشی استعداد، عوامی رائے اور وسائل کی دستیابی کو نئے صوبوں کی تشکیل کے بنیادی پیمانے قرار دیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی علاقے کو محض سیاسی مفادات کے تحت صوبہ بنانے کے بجائے ایک جامع قومی پالیسی کے تحت یہ فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی، ماہرینِ آئین، معاشی ماہرین، انتظامی ماہرین اور متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کو شامل کرکے قابلِ عمل خاکہ تیار کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ صوبائی خودمختاری کے باوجود مقامی حکومتوں کا نظام اکثر کمزور رہا ہے۔ بعض اوقات جن مسائل کو نئے صوبے کے ذریعے حل کرنے کی بات کی جاتی ہے، ان کا تعلق دراصل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے ہوتا ہے۔ اگر اضلاع اور مقامی حکومتوں کو مالی و انتظامی اختیارات مؤثر انداز میں منتقل کیے جائیں تو ممکن ہے کہ بعض علاقوں میں نئے صوبے کا مطالبہ کم شدت اختیار کرے۔

تاہم جہاں کسی خطے کا جغرافیائی حجم، آبادی، انتظامی فاصلے اور عوامی احساسِ محرومی اس حد تک بڑھ چکا ہو کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ مؤثر حکمرانی فراہم نہ کرسکے، وہاں نئے صوبے کے مطالبے کو محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مسترد کرنا بھی دانش مندانہ نہیں ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے کو سیاسی جماعتوں کے باہمی تصادم سے نکال کر قومی مکالمے کا حصہ بنایا جائے۔ تمام سیاسی جماعتیں پہلے اصول طے کریں کہ صوبہ سازی کی بنیاد لسانی، نسلی یا وقتی سیاسی مفاد کے بجائے انتظامی ضرورت، عوامی خواہش، معاشی استعداد اور آئینی تقاضوں پر ہوگی۔ اس کے بعد ہر مجوزہ صوبے کا الگ انتظامی اور معاشی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔نئے صوبوں کا قیام پاکستان کو مضبوط بھی کرسکتا ہے اور اگر مناسب منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو انتظامی پیچیدگیاں بھی پیدا کرسکتا ہے۔ فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریاست اس عمل کو سیاسی تقسیم کے بجائے بہتر حکمرانی، متوازن ترقی اور عوامی سہولت کے مقصد سے کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔پاکستان کا آئین اس معاملے میں راستہ فراہم کرتا ہے، لیکن راستے کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کرتا ہے۔ لہٰذا نئے صوبوں کے قیام کا کوئی بھی منصوبہ آئین، پارلیمانی جمہوریت، متعلقہ صوبے کی رضامندی اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔وقت کا تقاضا ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو انتخابی نعروں سے نکال کر ایک سنجیدہ قومی پالیسی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر واقعی مقصد عوام کو بہتر حکمرانی، تیز تر ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم فراہم کرنا ہے

تو پھر صوبوں کی تعداد سے زیادہ اہم صوبوں کا قابلِ عمل، بااختیار اور معاشی طور پر مضبوط ہونا ہے۔ یہی اصول پاکستان میں مستقبل کی انتظامی تقسیم کی بنیاد بننا چاہیے۔پاکستان میں نئے صوبے کا قیام یا کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی ایک حساس آئینی معاملہ ہے۔ اس کے لیے آئینِ پاکستان میں باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے، جسے نظرانداز کرکے محض سیاسی اعلان یا پارلیمانی قرارداد کی بنیاد پر نیا صوبہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔آئین کے آرٹیکل 1 میں پاکستان کے علاقوں اور صوبوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی نئے صوبے کے قیام کے نتیجے میں اگر موجودہ صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہیں تو آئین میں ترمیم ناگزیر ہوجاتی ہے۔آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیم کا باقاعدہ عمل شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر آئینی ترمیم کا بل پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان، یعنی قومی اسمبلی یا سینیٹ، میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ اسے منظور کرنے کے لیے متعلقہ ایوان کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا ایوان بھی بل کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرتا ہے۔تاہم نئے صوبے کے معاملے میں ایک اضافی اور نہایت اہم شرط موجود ہے۔ آرٹیکل 239(4) کے مطابق اگر آئینی ترمیم کا مقصد کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کرنا ہو تو پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے اس ترمیم کی منظوری بھی ضروری ہے۔مثلاً اگر پنجاب کے موجودہ علاقوں کو الگ کرکے نیا صوبہ تشکیل دینا ہو تو صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کافی نہیں ہوگی؛ پنجاب اسمبلی کے کل ارکان میں سے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری بھی لازمی ہوگی۔اس کے بعد آئینی ترمیم صدرِ مملکت کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور آئین میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ یوں نئے صوبے کا قیام ایک کثیر مرحلہ آئینی عمل ہے، جس میں وفاقی پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی دونوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

بنیادی آئینی مراحل
نئے صوبے کی تجویز یا مطالبہ سامنے آتا ہے۔
مجوزہ صوبے کی جغرافیائی حدود اور انتظامی ڈھانچے کا تعین کیا جاتا ہے۔
آئین میں مطلوبہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔
بل کو پہلے متعلقہ پارلیمانی ایوان سے دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جاتا ہے۔
دوسرے پارلیمانی ایوان سے بھی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

اگر صوبے کی حدود تبدیل ہورہی ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت بھی لازمی ہے۔آئینی ترمیم کے بعد نئے صوبے کے انتظامی، مالی اور قانونی ڈھانچے کے لیے ضروری قانون سازی اور انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں۔اس پورے عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نئے صوبے کا قیام محض سیاسی خواہش یا حکومتی اعلان سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے آئینی ترمیم، پارلیمانی دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بنیادی شرائط ہیں۔ یہی آئینی طریقۂ کار صوبہ سازی کے عمل کو سیاسی مصلحت کے بجائے آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا