حوثیوں کی پیش قدمی، یمن میں خونریز جھڑپوں سے 120 سے زائد ہلاک

0
120

صنعا: یمن میں حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ اور حکومتی فوج کے درمیان مغربی ساحل اور تعز کے علاقوں میں شدید جھڑپوں کے نتیجے میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حکومتی فورسز کے 24 اہلکار جبکہ تعز کے محاذ پر 15 اہلکار مارے گئے۔ یمنی فوج کی کارروائیوں میں 42 حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، جبکہ دیگر ہلاکتوں کی تفصیلات مختلف ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جمعرات کو اس وقت لڑائی میں شدت آئی جب حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز کے اطراف مختلف مقامات پر حملے کیے۔ انصار اللہ کی جانب سے یمنی فوج کے خلاف ڈرونز اور میزائل بھی استعمال کیے گئے۔

یمنی حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق حوثی کئی ہفتوں سے اہم بندرگاہی شہر موخا کو دیگر حکومتی علاقوں سے کاٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حوثی جنگجو تعز کے مغربی علاقوں اور بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے ساتھ آبنائے باب المندب سے متصل علاقوں کی جانب بھی پیش قدمی چاہتے ہیں۔

تازہ لڑائی کے دوران تعز کے مغربی علاقوں میں متعدد محاذوں پر جھڑپیں ہوئیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں کا ایک اہم مقصد ساحلی علاقوں اور ان راستوں پر کنٹرول مضبوط کرنا ہے جو حکومتی فورسز کے لیے تعز اور موخا کے درمیان رسد کا اہم ذریعہ ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگر حوثی ان علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس سے باب المندب کے قریب عسکری اور بحری صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ راستہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔

یمن میں حالیہ جھڑپوں نے ملک میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران نسبتاً کم شدت والے محاذوں پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر لڑائی کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا