محمد ازن عباس
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں طاقت کا توازن ایک مرتبہ پھر تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری علاقائی مسابقت اب صرف خلیج فارس، شام، عراق یا یمن تک محدود نہیں رہی بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیل چکی ہے۔ تازہ پیش رفت نے اس مقابلے کو نئی اسٹریٹجک جہت دے دی ہے، جہاں یمن میں حوثیوں کی مسلسل پیش قدمی اور باب المندب کے قریب ان کی بڑھتی ہوئی گرفت نے سعودی عرب کے لیے ایک نہایت پیچیدہ سکیورٹی چیلنج پیدا کردیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، موخا بندرگاہ پر قبضہ کیا ہے اور باب المندب کے قریب پرلیم سمیت اہم مقامات پر اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔باب المندب محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی نقل و حرکت کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر عرب سے ملاتی ہے، جس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی لیے باب المندب پر کسی ایک فریق کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ پورے خطے کے سیاسی اور معاشی توازن کو متاثر کرسکتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب آبنائے ہرمز بھی شدید کشیدگی کا شکار ہو، باب المندب کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
بعض تازہ تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ دونوں اہم بحری راستوں پر دباؤ عالمی توانائی کی منڈیوں اور سمندری تجارت کے لیے غیر معمولی خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تہران کی اسٹریٹجک سوچ نمایاں ہوتی ہے۔ ایران نے برسوں سے اپنی علاقائی پالیسی کو براہِ راست سرحدوں سے باہر اثرانداز ہونے والی ایک وسیع حکمت عملی کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ روابط نے ایران کو ایسے متعدد اسٹریٹجک مراکز فراہم کیے ہیں جہاں سے وہ براہِ راست بڑی جنگ میں داخل ہوئے بغیر علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کرسکتا ہے۔ حوثی تحریک اسی وسیع تر علاقائی نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ حوثیوں کے اپنے مقامی اور سیاسی مفادات بھی ہیں اور انہیں صرف تہران کی کٹھ پتلی قرار دینا حقیقت کو سادہ بنانا ہوگا، تاہم ایران کی سیاسی، عسکری اور تکنیکی حمایت نے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی اور دیگر تجزیاتی اداروں نے بھی حوثیوں کے لیے ایرانی حمایت اور بحیرہ احمر میں ان کے کردار کی نشاندہی کی ہے۔سعودی عرب کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ یمن میں برسوں کی عسکری مداخلت کے باوجود ریاض اپنے بنیادی سکیورٹی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکا۔ 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، لیکن طویل جنگ کے باوجود حوثی تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ وقت کے ساتھ اپنی عسکری اور سیاسی قوت میں اضافہ کرتی رہی۔ 2022 کے بعد نسبتاً خاموشی نے ایک موقع ضرور پیدا کیا تھا کہ یمن میں سیاسی حل کی طرف پیش رفت کی جائے، مگر موجودہ علاقائی جنگ نے اس تنازع کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ سعودی عرب کو اپنے جنوبی سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں اپنی اقتصادی سلامتی بھی محفوظ بنانا پڑ رہی ہے۔باب المندب میں حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اسی لیے ریاض کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا سمجھی جارہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق موخا بندرگاہ اور قریبی ساحلی علاقوں پر حوثیوں کی پیش قدمی نے انہیں اس اہم سمندری راستے کے قریب مزید مضبوط پوزیشن فراہم کی ہے۔ بعض رپورٹس میں پرلیم اور دیگر جزائر پر قبضے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ حوثی صرف یمن کی داخلی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کررہے بلکہ سمندری راستوں پر بھی اپنی گرفت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس صورتحال نے سعودی عرب کے لیے ایک نہایت مشکل سوال پیدا کردیا ہے: کیا صرف فضائی طاقت، دفاعی نظام اور مالی وسائل کے ذریعے باب المندب کے خطرے کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ حالیہ واقعات کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے، اس کے پاس جدید ہتھیار، مضبوط فضائی دفاع، وسیع مالی وسائل اور امریکہ و مغرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری ہے، لیکن یمن کا جغرافیہ اور حوثیوں کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی نے روایتی عسکری برتری کو محدود کردیا ہے۔حوثیوں کی طاقت کا ایک اہم عنصر ان کی جنگی ساخت ہے۔ وہ مکمل طور پر روایتی فوج کی طرح لڑنے کے بجائے میزائل، ڈرون، ساحلی حملوں، تیز رفتار نقل و حرکت اور جغرافیائی پھیلاؤ کو استعمال کرتے ہیں۔
اس طرز جنگ کا مقابلہ کرنا کسی بھی روایتی فوج کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ حوثیوں نے گزشتہ برسوں میں یہ صلاحیت دکھائی ہے کہ وہ نہ صرف سعودی اہداف بلکہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ 2026 میں سعودی پرچم والے جہازوں کے خلاف حملوں اور بحیرہ احمر میں بحری نقل و حرکت میں کمی کی اطلاعات نے اس خطرے کو مزید نمایاں کیا ہے۔ریاض کی مشکل اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ ایک جانب یمن کے بحران کو محدود کرنا چاہتا ہے اور دوسری جانب عالمی طاقتوں سے مسلسل سکیورٹی تعاون کا خواہاں ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی قیادت کی جانب سے واشنگٹن سے حوثیوں کے خلاف دوبارہ عسکری کارروائی کی درخواست کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے لیے صورتحال کتنی سنگین ہوگئی ہے۔ امریکی حکومت کی ترجیحات تاہم صرف سعودی دفاع تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی جنگ اور عالمی بحری راستوں کو محفوظ رکھنے سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں “تہران کی اسٹریٹجک مضبوطی” کی اصطلاح زیادہ معنی خیز ہوجاتی ہے۔ ایران نے براہِ راست سعودی سرزمین پر قبضہ کیے بغیر، اپنے علاقائی شراکت داروں اور اتحادی گروہوں کے ذریعے سعودی عرب پر مختلف سمتوں سے دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔
خلیج میں آبنائے ہرمز اور جنوب میں باب المندب کے درمیان پیدا ہونے والا دباؤ تہران کے لیے ایک غیر معمولی جغرافیائی فائدہ پیدا کرتا ہے۔ اگر ایک ہی علاقائی طاقت کے حامی مختلف بحری راستوں کے قریب اثرورسوخ رکھتے ہوں تو عالمی تجارت اور توانائی کے معاملات میں اس طاقت کی مذاکراتی پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط ہوسکتی ہے۔ حالیہ تجزیوں میں بھی اسی دوطرفہ بحری دباؤ کو ایران کی بڑی اسٹریٹجک صلاحیت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔تاہم سعودی عرب کو “شکست خوردہ” قرار دیتے ہوئے ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ ریاض اب بھی خطے کی ایک بڑی اقتصادی، مالی اور سیاسی طاقت ہے۔ سعودی عرب کے پاس تیل کی دولت، حج و عمرہ کی مذہبی حیثیت، عالمی سرمایہ کاری، جدید دفاعی صلاحیت اور امریکہ و دیگر طاقتوں کے ساتھ مضبوط تعلقات موجود ہیں۔ اس لیے باب المندب میں اسٹریٹجک پسپائی کو سعودی عرب کی مجموعی شکست قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یمن اور بحیرہ احمر کے محاذ پر سعودی عرب کی مطلوبہ برتری قائم نہیں رہ سکی اور اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑ رہی ہے۔اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب خطے میں اتحادی صف بندیوں کا بدلنا بھی ہے۔ یمن میں مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات، بیرونی طاقتوں کی مختلف ترجیحات اور خلیجی ممالک کے درمیان حکمت عملی کے فرق نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کو پہلے کی طرح یکساں نہیں رہنے دیا۔
دوسری طرف حوثیوں نے طویل جنگ کے دوران اپنی تنظیمی صلاحیت، جغرافیائی گرفت اور جنگی تجربے میں اضافہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے لیے محض ایک بڑی فوجی کارروائی کرکے مسئلے کو ختم کرنا اب آسان نہیں۔عالمی معیشت کے لیے بھی یہ صورتحال خطرناک ہے۔ اگر باب المندب میں جہاز رانی زیادہ عرصے تک متاثر رہتی ہے تو یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کو متبادل راستوں پر منتقل ہونا پڑسکتا ہے۔ بحری سفر کا دورانیہ، انشورنس کے اخراجات اور ایندھن کی لاگت بڑھنے سے دنیا بھر میں قیمتوں پر دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں بحیرہ احمر کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں کے درمیان براہِ راست تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ برینٹ خام تیل کے 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔یہاں ایران کی حکمت عملی کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ تہران کے لیے باب المندب پر بڑھتا ہوا دباؤ صرف سعودی عرب کو کمزور کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ امریکہ اور مغربی طاقتوں پر مذاکراتی دباؤ بڑھانے کا وسیلہ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر خلیج میں ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب المندب دونوں غیر یقینی کا شکار ہوں تو عالمی طاقتوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو نظرانداز کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران علاقائی جنگ سے آگے بڑھ کر عالمی توانائی، تجارت اور سفارت کاری کا مسئلہ بن چکا ہے۔پاکستان کے لیے اس صورتحال میں نہایت محتاط اور متوازن سفارت کاری ضروری ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے برادرانہ، دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جبکہ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے۔ یمن اور بحیرہ احمر کی کشیدگی اگر مزید بڑھے تو اس کے اثرات خلیج سے نکل کر جنوبی ایشیا، تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور پاکستان کی درآمدی لاگت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ وہ کسی فریق کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سمندری راستوں کی آزادی کے اصولوں کی حمایت کرے۔آخرکار تہران کی اصل طاقت صرف اس کے میزائل یا اتحادی گروہ نہیں بلکہ یہ صلاحیت ہے کہ وہ علاقائی تنازعات کو جغرافیائی، سیاسی اور معاشی دباؤ کے ایک مربوط نظام میں تبدیل کرسکے۔ باب المندب میں حوثیوں کی پیش قدمی نے سعودی عرب کی کمزوریوں کو نمایاں ضرور کیا ہے، لیکن اس کا مطلب سعودی عرب کی مکمل شکست نہیں۔
یہ زیادہ درست طور پر اس حقیقت کی علامت ہے کہ یمن میں طاقت کا وہ توازن قائم نہیں ہوسکا جو ریاض اپنے طویل عسکری سفر کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا تھا۔مستقبل کا فیصلہ اب صرف میدانِ جنگ نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ یمن اور بحیرہ احمر میں طویل عسکری محاذ آرائی جاری رکھے گا یا کسی وسیع تر سیاسی انتظام کے ذریعے اپنے مفادات محفوظ کرے گا۔ ایران کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ علاقائی دباؤ کو حد سے آگے بڑھانے سے عالمی طاقتوں کا ردعمل کس حد تک سخت ہوسکتا ہے۔ حوثیوں کے لیے بھی سوال یہی ہے کہ آیا وہ باب المندب پر اپنا اثرورسوخ مذاکراتی طاقت میں تبدیل کرسکتے ہیں یا مستقل تصادم انہیں مزید تنہائی کی طرف لے جائے گا۔مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے نقشے میں باب المندب اب ایک مقامی یمنی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقت کے کھیل کا ایک مرکزی مقام بن چکا ہے۔ تہران نے اپنی جغرافیائی اور علاقائی شراکت داریوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے اپنی اسٹریٹجک اہمیت بڑھائی ہے، جبکہ سعودی عرب کو اپنی پرانی پالیسیوں اور سکیورٹی ترجیحات پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ یہی باب المندب کا سب سے بڑا سبق ہے کہ آج کی جنگیں صرف زمین پر نہیں لڑی جاتیں؛ سمندر، تجارت، توانائی، ڈرون، سفارت کاری اور علاقائی اتحاد بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔






