آسمان بُھٹہ
(مصنف اوٹاوا یونیورسٹی کینڈا میں قانون کے طالب علم ہیں)
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، شہری سندھ اور دیگر علاقوں کے حوالے سے یہ بحث مختلف ادوار میں شدت اختیار کرتی رہی ہے۔ اس بحث کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے اور کیا ریفرنڈم اس مسئلے کا قابلِ عمل، شفاف اور آئینی حل بن سکتا ہے؟اصولی طور پر دیکھا جائے تو کسی علاقے کے عوام سے براہ راست رائے لینا جمہوری اعتبار سے ایک مضبوط تصور ہے۔ اگر کسی خطے کے باشندے یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے اور وہ الگ صوبائی شناخت، الگ انتظامی مرکز یا زیادہ بااختیار حکومت چاہتے ہیں تو ان کی رائے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پاکستان کے موجودہ آئینی نظام میں صرف ریفرنڈم کے ذریعے نیا صوبہ قائم کرنے کا براہ راست طریقہ موجود نہیں۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 238 اور 239 میں آئینی ترمیم کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔ کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ اس کے بعد آئینی ترمیم پارلیمانی عمل سے گزرتی ہے۔
یوں موجودہ آئینی نظام میں صوبوں کی تشکیل یا حدود میں تبدیلی محض انتظامی حکم یا عام قانون کے ذریعے نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کے لیے مخصوص آئینی طریقۂ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔یہاں ریفرنڈم کی بحث پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اگر کسی صوبے کے کسی حصے کے عوام الگ صوبہ چاہتے ہیں تو سوال یہ ہوگا کہ ریفرنڈم کس علاقے میں کرایا جائے؟ پورے موجودہ صوبے میں یا صرف ان اضلاع میں جو نئے صوبے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں؟ اگر پورے صوبے میں ریفرنڈم ہو تو کسی ایک خطے کی اکثریتی خواہش کو پورے صوبے کی اکثریت مسترد کر سکتی ہے، جبکہ اگر صرف مجوزہ نئے صوبے کے علاقے میں ووٹنگ ہو تو اس کے بعد موجودہ صوبے کی حدود، اثاثوں، ملازمین، پانی، وسائل، قرضوں اور انتظامی ڈھانچے کی تقسیم جیسے سوالات پیدا ہوں گے۔مثلاً اگر کسی موجودہ صوبے سے چند ڈویژن یا اضلاع الگ کرکے نیا صوبہ بنانے کی تجویز ہو تو صرف یہ پوچھ لینا کہ ’’آپ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں؟‘‘ کافی نہیں ہوگا۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نئے صوبے کا دارالحکومت کہاں ہوگا، مالی وسائل کی تقسیم کس طرح ہوگی، ملازمین اور اداروں کی تقسیم کیسے ہوگی، قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کیا اثر پڑے گا، پولیس، عدلیہ، ہائی کورٹ اور سیکریٹریٹ کا نظام کیسے قائم ہوگا اور نئے صوبے کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔
اس لیے ریفرنڈم کو اگر نئے صوبوں کے مسئلے کا حصہ بنایا جائے تو اسے محض سیاسی نعرے کے بجائے ایک مکمل آئینی و انتظامی پیکیج کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔ عوام سے واضح سوال پوچھنا ضروری ہوگا اور اس سوال کے ساتھ مجوزہ صوبے کی حدود، انتظامی مرکز اور مالیاتی ڈھانچے کی بنیادی تفصیلات بھی سامنے لانا ہوں گی۔ریفرنڈم کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ صوبہ کسی مخصوص خطے کے لوگوں پر مسلط انتظامی اکائی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی علاقے کی واضح اکثریت مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہو کہ اسے الگ صوبائی حیثیت دی جائے تو اس مطالبے کو سیاسی عمل کے ذریعے سننا چاہیے۔ اس سے نئے صوبے کے قیام کو محض سیاسی مفاد کے بجائے عوامی خواہش سے جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔لیکن ریفرنڈم کے مخالفین کے پاس بھی مضبوط دلائل موجود ہیں۔
پاکستان ایک وفاقی آئینی ریاست ہے اور صوبوں کی حدود صرف مقامی انتظامی معاملہ نہیں بلکہ وفاق کے مجموعی سیاسی توازن سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ نئے صوبے کے قیام سے سینیٹ، قومی اسمبلی، قومی مالیاتی کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور دیگر وفاقی و صوبائی اداروں میں نمائندگی کا پورا ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی ایک علاقے کے عوام کی رائے کے ساتھ پورے وفاقی نظام کے اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ریفرنڈم میں سوال کی نوعیت انتہائی اہم ہوگی۔ اگر سوال جذباتی بنیادوں پر بنایا جائے تو نتیجہ بھی جذباتی ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر عوام کو انتظامی، مالی اور آئینی حقائق سے آگاہ کرکے رائے لی جائے تو فیصلہ زیادہ بامعنی ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ریفرنڈم سے قبل غیر جانب دار عوامی آگاہی مہم، حلقہ وار اعدادوشمار اور مجوزہ صوبے کی مکمل فزیبلٹی رپورٹ ضروری ہونی چاہیے۔پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو صرف لسانی، نسلی یا علاقائی شناخت کے تناظر میں دیکھنا بھی مناسب نہیں۔
صوبہ بنانے کی بنیادی دلیل بہتر طرز حکمرانی، انتظامی رسائی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوامی خدمات کی بہتری اور سیاسی نمائندگی ہونی چاہیے۔ اگر نیا صوبہ بننے کے بعد بھی عوام کو صحت، تعلیم، روزگار، صاف پانی، پولیس اور بلدیاتی سہولیات میسر نہ آئیں تو محض نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا نئے صوبوں کے بجائے بااختیار مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہیں؟ پاکستان کے بڑے شہروں اور دور دراز علاقوں کے کئی مسائل صوبائی دارالحکومت سے دوری کے بجائے مقامی حکومتوں کے کمزور ہونے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی وسائل اور انتظامی اختیارات دیے جائیں تو ممکن ہے بعض علاقوں میں الگ صوبے کا مطالبہ بھی کمزور پڑ جائے۔اس لیے نئے صوبوں کے معاملے میں ایک متوازن راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پہلے سیاسی جماعتیں اور متعلقہ علاقوں کے نمائندے اتفاق رائے پیدا کریں، پھر ایک آزاد اور غیر جانب دار کمیشن مجوزہ صوبے کی حدود، آبادی، مالی وسائل، انتظامی ضرورت، وسائل کی تقسیم اور آئینی اثرات کا جائزہ لے۔ اس کے بعد پارلیمان اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں آئینی عمل شروع کیا جائے۔
اگر سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ عوامی رائے کو بھی شامل کرنا مطلوب ہو تو ریفرنڈم کو اس پورے آئینی عمل کا معاون ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، اس کا متبادل نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ریفرنڈم اپنی ذات میں نہ اچھا حل ہے نہ برا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس آئینی فریم ورک، کس سوال، کس علاقے اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ریفرنڈم کو آئینی طریقۂ کار سے بالاتر رکھ کر صوبہ بنانے کا واحد ذریعہ تصور کیا جائے تو قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ لیکن اگر اسے عوامی رائے معلوم کرنے کے ایک جمہوری ذریعے کے طور پر آئینی ترمیم کے عمل کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ بحث کو زیادہ عوامی اور شفاف بنا سکتا ہے۔پاکستان کو نئے صوبوں کے معاملے میں جلد بازی یا سیاسی مفاد کے بجائے مستقل اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اگر ایک سیاسی جماعت اپنے مطالبے کے لیے ریفرنڈم چاہتی ہے تو کل دوسری جماعت کسی دوسرے علاقے کے لیے یہی مطالبہ کر سکتی ہے۔
اس لیے کسی ایک صوبے یا علاقے کے لیے الگ معیار بنانے کے بجائے پورے ملک کے لیے واضح آئینی اور قانونی پالیسی بنائی جانی چاہیے۔نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے انتظامی مسائل کا ایک ممکنہ حل ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اسے ہر مسئلے کا علاج سمجھنا درست نہیں۔ اصل مقصد بہتر حکمرانی اور عوام کو ریاستی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ اگر ریفرنڈم اس مقصد کے حصول میں عوامی رائے کو حقیقی طور پر شامل کرتا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے، لیکن حتمی فیصلہ بہرحال آئین کے مقرر کردہ طریقۂ کار کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم سیاسی طور پر قابلِ غور اور عوامی رائے کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر موجودہ آئینی نظام میں یہ اکیلا اور براہِ راست متبادل نہیں۔ اصل حل آئینی ترمیم، پارلیمانی اتفاق رائے، متعلقہ صوبے کی آئینی منظوری اور عوامی خواہش کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کرنے میں ہے۔ یہی طریقہ نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی تنازع کے بجائے قومی انتظامی اصلاحات کا حصہ بنا سکتا ہے۔






