سندھ طاس معاہدہ: آبی بحران میں بھارتی چالاکیاں

0
886

آسمان بُھٹہ

مصنف کینیڈا میں اوٹاوا یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں

سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ 1960ء میں عالمی بینک کی معاونت سے طے پانے والے اس معاہدے نے مشرقی دریاؤں—راوی، بیاس اور ستلج—کا پانی بھارت کے لیے مختص کیا، جبکہ مغربی دریاؤں—سندھ، جہلم اور چناب—کا بڑا حصہ پاکستان کے استعمال کے لیے رکھا۔ اس بندوبست کے باوجود پاکستان کو آج پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، ناقص آبی انتظام اور سرحد پار منصوبوں سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔ بھارت کی بعض سرگرمیوں کو پاکستان معاہدے کی روح اور طے شدہ حدود سے تجاوز سمجھتا ہے؛ تاہم ہر تنازعے کا فیصلہ ثبوت، معاہدے کی عبارت اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

معاہدہ کیا اجازت دیتا ہے؟معاہدہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مختص کرتا ہے، مگر بھارت کو ان دریاؤں کے پانی کے کچھ محدود استعمال کی اجازت بھی دیتا ہے، مثلاً گھریلو اور غیر استعمالی مقاصد، مخصوص زرعی استعمال اور پن بجلی کی پیداوار۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کوئی منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ منصوبہ معاہدے کی شرائط، ڈیزائن اور پانی کے بہاؤ سے متعلق پابندیوں کے مطابق ہے یا نہیں۔پاکستان نے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں سمیت مختلف منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ پاکستانی مؤقف یہ رہا ہے کہ بعض ڈیزائن پانی کے بہاؤ، ذخیرہ کرنے یا دریا کا رخ موڑنے کے حوالے سے معاہدے کی پابندیوں سے متصادم ہو سکتے ہیں۔ بھارت اپنے منصوبوں کو معاہدے کے تحت جائز پن بجلی کے استعمال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ایسے اختلافات کا فیصلہ سیاسی بیانات سے نہیں، بلکہ متعلقہ تکنیکی اور قانونی فورم کے ذریعے ہونا چاہیے معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے انڈس واٹرز کمشنر باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور سوالات یا اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ منصوبوں سے متعلق مقررہ معلومات فراہم کرنا اور دوسرے فریق کے جائز سوالات کا جواب دینا اعتماد سازی کے لیے اہم ہے۔ اگر کسی منصوبے کی تفصیلات بروقت یا مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں تو شکوک پیدا ہوتے ہیں اور تنازعے کا خطرہ بڑھتا ہے۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر اعتراض کو منصوبے کے مخصوص ڈیزائن، معاہدے کی متعلقہ شق اور قابلِ تصدیق تکنیکی شواہد سے جوڑے۔ اسی طرح بھارت پر بھی لازم ہے کہ وہ معاہدے کے تحت درکار معلومات اور تعاون فراہم کرے۔ پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکیوں سے معاہدے پر اعتماد کمزور ہوتا ہے، چاہے ان دھمکیوں کا قانونی اثر بعد میں الگ سے جانچا جائے۔سندھ طاس معاہدہ اختلافات کے حل کے لیے مرحلہ وار طریقۂ کار رکھتا ہے۔

فنی سوالات پہلے دونوں ممالک کے کمشنروں کے ذریعے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اگر مسئلہ حل نہ ہو تو معاہدے میں غیر جانب دار ماہر یا ثالثی عدالت جیسے راستے موجود ہیں؛ مناسب فورم کا انتخاب تنازعے کی نوعیت اور معاہدے کی شرائط پر منحصر ہوتا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ اختلافات یک طرفہ اقدامات کے بجائے طے شدہ قانونی عمل کے ذریعے نمٹائے جائیں۔قانونی طور پر کسی فریق کا یک طرفہ مؤقف یا سیاسی اعلان خودبخود معاہدے کی تشریح نہیں بن جاتا۔ اسی طرح معاہدے کی خلاف ورزی ثابت کرنے کے لیے محض خدشات کافی نہیں؛ منصوبے کی ساخت، پانی کے بہاؤ پر اثر، متعلقہ شقیں اور ماہرین کی شہادت اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے مقدمات مضبوط دستاویزات، آزاد تکنیکی جائزوں اور مسلسل سفارتی و قانونی پیروی کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے اندر پانی کی تقسیم آئینی ذمہ داریوں سے بھی جڑی ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 153 مشترکہ مفادات کونسل (CCI) قائم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 154 اسے وفاق اور صوبوں کے مشترکہ مفادات سے متعلق پالیسی معاملات میں کردار دیتا ہے۔ بین الصوبائی آبی مسائل، خصوصاً صوبوں کے حصے اور پانی کے انتظام، میں CCI کا مؤثر اور باقاعدہ کردار ضروری ہے۔آرٹیکل 155 پانی کی فراہمی یا تقسیم سے متعلق بعض بین الصوبائی شکایات کے لیے آئینی طریقہ فراہم کرتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ صوبوں کے درمیان ایسے تنازعات وفاقی آئینی نظام کے تحت سنے جائیں۔ ان دفعات کا تعلق پاکستان کے اندر پانی کی تقسیم سے ہے؛ یہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی جگہ نہیں لیتیں، مگر قومی آبی پالیسی اور صوبائی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔1991ء کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ اور اس پر عمل درآمد کے ادارہ جاتی نظام، بشمول انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کو شفاف اور مؤثر بنانا بھی اہم ہے۔ اگر صوبوں کو اپنے حصوں، ڈیموں کے آپریشن یا پانی کے اعدادوشمار پر اعتماد نہ ہو تو پاکستان کا مشترکہ قومی مؤقف کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کو دستیاب اعدادوشمار، پانی کی پیمائش اور فیصلوں کی وجوہات باقاعدگی سے عام کرنی چاہییں۔پاکستان میں پانی کا بحران صرف سرحد پار تنازعات سے پیدا نہیں ہوتا۔ زیرِ زمین پانی کا بے تحاشا استعمال، آبپاشی میں ضیاع، کمزور ذخیرہ گاہیں، آلودگی، ناقص شہری منصوبہ بندی اور بارشوں کے بدلتے انداز بھی بحران کو بڑھاتے ہیں۔

بھارت کے اقدامات پر قانونی نگرانی ضروری ہے، مگر ملکی اصلاحات کے بغیر پاکستان کی آبی سلامتی مضبوط نہیں ہو سکتی۔پاکستان کو دریاؤں کے بہاؤ اور منصوبوں کی آزادانہ نگرانی، ہائیڈروولوجیکل اعدادوشمار کے جدید نظام، ماہرین پر مشتمل قانونی و تکنیکی ٹیم، اور صوبوں کے ساتھ مستقل مشاورت کو ترجیح دینی چاہیے۔ ہر نئے منصوبے پر بروقت اعتراض، مستند شواہد کی تیاری اور معاہدے کے فورم سے رجوع کرنا قومی مفاد میں ہے۔ ساتھ ہی پانی بچانے والی آبپاشی، فصلوں کے بہتر انتخاب اور ذخیرہ و نکاسی کے نظام میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی تحفظ ہے، مگر اس تحفظ کا فائدہ اسی وقت ہوگا جب پاکستان اسے مسلسل، باخبر اور مستند انداز میں استعمال کرے۔ بھارت کے ممکنہ معاہدہ شکن اقدامات پر اعتراض اٹھانا پاکستان کا حق ہے؛ ان اعتراضات کو کامیاب بنانے کے لیے شق وار قانونی دلیل اور مضبوط تکنیکی ثبوت درکار ہیں۔ آئین کے تحت وفاق اور صوبوں میں شفاف تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آبی سلامتی سفارتی مزاحمت، قانونی تیاری اور اپنے پانی کے بہتر انتظام ۔تینوں سے حاصل ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا