نیا کے پی سیٹ اپ اور فیصل واوڈا

0
937

محمد ازن عباس مہدی

خیبر پختونخوا میں نیا انتظامی بندوبست محض حکومت کی تبدیلی نہیں؛ یہ آئین، وفاقی اختیار، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان ایک اہم آزمائش ہے۔ اس صورتِ حال پر سینیٹر فیصل واوڈا کے بیانات نے بحث کو مزید تیز کیا ہے۔ وہ ایک طرف نئے انتظام سے فوری نتائج کی توقع باندھتے ہیں، دوسری طرف ناکامی کی صورت میں اسے بدلنے کا امکان بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے دعووں اور اندازِ بیان کو سرخیوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے: کیا یہ واقعی صوبے کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں، یا سیاسی فضا میں ایک اور پیش گوئی کا اضافہ ہیں؟حالیہ پیش رفت کے مطابق وفاقی حکومت نے سکیورٹی صورتِ حال کا حوالہ دے کر ایمرجنسی کی سفارش کی، جس کے بعد صدر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ اور صوبائی حکومت معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کے بعد صوبے کا انتظام گورنر کے اختیار میں آگیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وفاقی کابینہ نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں عدم تعاون کا الزام لگایا، جبکہ عمران خان اور ان کی جماعت کے حامی اس فیصلے کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔ یہ صورتِ حال بذاتِ خود ایک مشکل سوال اٹھاتی ہے: اگر کسی منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے یا معطل کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو اس کی آئینی بنیاد، دائرۂ اختیار اور مدت کے بارے میں عوام کو واضح اور قابلِ جانچ جواب کون دے گا؟فیصل واوڈا نے نئے بندوبست سے توقع ظاہر کی ہے کہ عوام کو جلد ریلیف ملے گا۔ ان کے مطابق کارکردگی فیصلہ کن ہوگی اور اگر انتظامیہ ناکام رہی تو اسے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

بظاہر یہ بات جواب دہی کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے: ہر حکومت اور انتظامیہ کو نتائج دکھانے چاہییں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی ابہام موجود ہے۔ کارکردگی کی پیمائش کون کرے گا؟ کامیابی کے پیمانے کیا ہوں گے؟ اور اگر صوبے میں امن، روزگار یا بنیادی خدمات بہتر نہ ہوں تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی—گورنر پر، وفاق پر، مقامی انتظامیہ پر یا اس سیاسی فیصلے پر جس نے موجودہ بندوبست قائم کیا؟ بغیر واضح پیمانوں کے ’’کارکردگی‘‘ کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ رہ جاتا ہے۔نئے سیٹ اپ کے حق میں سکیورٹی کی دلیل کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے باعث بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔ اگر کسی علاقے میں ریاستی اداروں کی کارکردگی کمزور ہو، شہری غیر محفوظ ہوں اور انتظامی رٹ متاثر ہو تو حکومت کا فرض ہے کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ مگر سکیورٹی کی سنگینی اس بات کا متبادل نہیں بن سکتی کہ اقدامات کی قانونی حدود اور سیاسی اثرات پر سوال ہی نہ اٹھائے جائیں۔ جمہوری نظام میں سکیورٹی اور شہری حقوق ایک دوسرے کے مخالف نہیں؛ ریاست کو دونوں کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔ اگر غیر معمولی اختیار استعمال کیا گیا ہے تو اس کی مدت، نگرانی، پارلیمانی جواب دہی اور انتخابی حکومت کی بحالی کا راستہ بھی واضح ہونا چاہیے۔یہاں واوڈا کے بیان کا انداز بھی قابلِ غور ہے۔

ان کی گفتگو اکثر قطعی پیش گوئیوں اور سخت سیاسی فیصلوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ حالیہ بیان میں انہوں نے تحریکِ انصاف کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ یہ جماعت باقی نہیں رہے گی، اور اس کے رہنماؤں کو نئی جماعت بنانے یا کسی اور سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ ایسے بیانات سیاسی تجزیے کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن کسی جماعت کے خاتمے کا اعلان ایک سیاست دان کی رائے ہے، عوامی فیصلے کا متبادل نہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات، عوامی حمایت، تنظیمی قوت اور آئینی عمل کے ذریعے زندہ رہتی یا کمزور ہوتی ہیں؛ پریس کانفرنس میں کی گئی پیش گوئی سے ان کا مستقبل طے نہیں ہوتا۔تنقید کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ واوڈا نئے انتظام سے نتائج کی توقع تو کرتے ہیں، لیکن ان کے عوامی بیانات میں ایسے نتائج تک پہنچنے کا مفصل خاکہ کم دکھائی دیتا ہے۔ صوبے میں امن کے لیے پولیس اور مقامی اداروں کی استعداد، سرحدی اضلاع کی ضروریات، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی، اسکولوں اور اسپتالوں کی کارکردگی، اور روزگار کے مواقع—یہ سب الگ الگ پالیسی مسائل ہیں۔ ان کے حل کے لیے بجٹ، وقت، واضح اختیار اور مقامی آبادی کا اعتماد درکار ہے۔ اگر نئے بندوبست کا اصل مقصد عوام کو تحفظ اور بہتر خدمات دینا ہے تو اسے بیانات سے آگے بڑھ کر ایک تحریری منصوبہ، ترجیحات اور جواب دہی کے نظام کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔

ایک اہم خطرہ سیاسی زبان میں بھی پوشیدہ ہے۔ جب کسی جماعت یا اس کے حامیوں کو اجتماعی طور پر ریاست دشمن، ناقابلِ قبول یا سیاسی طور پر ختم شدہ قرار دیا جائے تو بحث پالیسی سے ہٹ کر وفاداری کے امتحان میں بدلنے لگتی ہے۔ ریاست مخالف تشدد یا دہشت گردی کی حمایت، اگر ثابت ہو، تو قانون کے مطابق قابلِ کارروائی ہے۔ لیکن اختلافِ رائے، صوبائی حکومت پر تنقید یا کسی سیاسی جماعت کی حمایت کو خودبخود اسی خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ قانون کی انفرادی اور منصفانہ عمل داری ہی قومی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہے؛ وسیع الزامات معاشرے میں بداعتمادی بڑھاتے ہیں۔واوڈا کے مؤقف میں ایک داخلی تضاد بھی ہے۔ اگر موجودہ بندوبست کو عوامی ریلیف اور امن کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے تو اس کی کامیابی کا فیصلہ محض چند ہفتوں کے تاثر سے نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، اگر صوبائی حکومت کو ناکام قرار دینے کے لیے کارکردگی کا معیار استعمال کیا گیا ہے تو نئے انتظام پر بھی وہی معیار لاگو ہونا چاہیے۔ یکساں پیمانہ ہی سیاسی دیانت کا تقاضا ہے۔

نئے سیٹ اپ کی ناکامی کو صرف ماضی کی حکومت پر ڈال دینا اتنا ہی نامناسب ہوگا جتنا ہر مسئلے کا الزام موجودہ انتظامیہ پر رکھ دینا، خصوصاً جب اختیار اور وسائل کی تقسیم واضح نہ ہو۔خیبر پختونخوا کے شہریوں کو آخرکار کسی رہنما کی پیش گوئی نہیں، قابلِ پیمائش بہتری درکار ہے: محفوظ بازار، قابلِ اعتماد پولیس، فعال اسکول، دستیاب علاج اور باعزت روزگار۔ ان اہداف کی جانب پیش رفت کو عوامی اعدادوشمار اور پارلیمانی نگرانی کے ذریعے جانچنا چاہیے۔ اگر نیا انتظام یہ نتائج دے تو اسے کامیاب کہا جائے؛ اگر نہ دے تو ذمہ داری قبول کی جائے اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔فیصل واوڈا کی تنقید میں کارکردگی پر زور دینے کا نکتہ قابلِ توجہ ہے، مگر سخت جملے اور سیاسی پیش گوئیاں اس وقت تک پائیدار حل نہیں بن سکتیں جب تک ان کے ساتھ شفاف معیار، واضح مدت اور آئینی جواب دہی موجود نہ ہو۔ خیبر پختونخوا کا نیا سیٹ اپ اسی صورت میں جائز اعتماد حاصل کرے گا جب وہ طاقت کے اظہار کے بجائے شہریوں کی زندگی میں بہتری دکھائے، اور سیاسی اختلاف کو دبانے کے بجائے قانون کے دائرے میں سنبھالے۔ اصل فیصلہ سیاسی بیانات نہیں، صوبے کے عوام کے تجربے اور ان کے منتخب نمائندوں کے سامنے انتظامیہ کی جواب دہی کرے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا