بیوروکریسی کے گوشواروں تک عوامی رسائی کیوں نہیں؟

0
1142

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری

پاکستان میں احتساب کی بحث بظاہر ہمیشہ ایک ہی سمت میں بہتی رہی ہے۔ سیاستدان کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، اس کی ڈگری کھنگالی جاتی ہے، اس کے گوشوارے اخبارات کی خبروں کی زینت بنتے ہیں اور اس کی جائیداد پر ٹی وی ٹاک شوز میں گھنٹوں گفتگو ہوتی ہے۔ دوسری طرف وہ طبقہ جو سیاستدانوں کے آنے جانے کے باوجود برسوں بلکہ دہائیوں تک نظامِ ریاست کی باگ ڈور تھامے رکھتا ہے، یعنی بیوروکریسی، اکثر پردے کے پیچھے رہتی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے حالیہ اجلاس نے اسی دوہرے معیار کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے جہاں سیکریٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت سرکاری افسران کے اثاثے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مکمل طور پر ظاہر نہیں کرے گی اور آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے دسمبر تک صرف منتخب معلومات شائع کی جائیں گی۔ گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کے تمام افسران کو مالی سال 2025-26 کے گوشوارے ایف بی آر کے پورٹل کے ذریعے جمع کرانے ہیں، جس کی آخری تاریخ تیس اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ نظام کی ڈیجیٹائزیشن بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل پورٹل پر جمع ہونے والی معلومات کا انجام کیا ہوگا۔ ماڈل یہ ہے کہ ایف بی آر ڈیٹا کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو دے گا، جسے کسی تضاد کی صورت میں تادیبی کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔ یعنی افسر کا احتساب افسروں ہی کے ادارے کے ہاتھ میں رہے گا

اور عوام، جن کے ٹیکسوں سے یہ تنخواہیں اور مراعات ادا ہوتی ہیں، صرف وہی کچھ دیکھ پائیں گے جو دکھانا مناسب سمجھا جائے گا۔اسی اجلاس میں حنا ربانی کھر نے وہ بنیادی نکتہ اٹھایا جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اثاثے ظاہر کریں، پھر سرکاری افسران پر یہی شرط پوری طرح کیوں لاگو نہیں ہو سکتی؟ انہوں نے سکیورٹی کے نام پر معلومات روکنے کے جواز پر بھی سوال اٹھایا۔ کمیٹی کے رکن جاوید حنیف خان نے مطالبہ کیا کہ ان سکیورٹی خدشات کی تفصیل بتائی جائے، تو جواب میں سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ یہ قواعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بنائے ہیں اور وہی وضاحت کر سکے گا۔ یعنی جس وزارت نے آئی ایم ایف کے سامنے وعدہ کیا، وہ خود اس وعدے کی تشریح کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ سیکریٹری خزانہ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ افسران کے اثاثوں پر کوئی قدغن لگائی جا رہی ہے۔آئیے اب ذراغور کیجیے کہ سکیورٹی کا یہ استدلال کتنا مضبوط ہے اور اس بے عملی کی قیمت کیا ہو سکتی ہے، اس کی ایک مثال بتیس سالہ سروس کیبعد سامنے آنے والا ایک ایس پی کا کیس ہیجہاں پولیس کے ایک افسر نے اسلام آباد میں جعلی اسناد و تقرری کے خط پر بھرتی ہو کر اے ایس آئی سے ایس پی تک کا سفر طے کیا، اور معاملہ اس وقت کھلا جب ترقی کی اپیل کے دوران حکام نے اسلام آباد پولیس سے تقرری کی تفصیل مانگی۔ سوال یہ ہے کہ ان بتیس برسوں میں اس افسر نے جو فیصلے کیے، جو مقدمات بنائے یا ختم کیے، جو گرفتاریاں ہوئیں، جن کی ضمانتیں اور تفتیشیں متاثر ہوئیں، ان کی ذمہ داری کس پر ہے؟

اگر ایک عام شہری فرضی دستاویز پر ایک دن نوکری کرے تو مقدمہ بنتا ہے، مگر جب برسوں تک اختیارات استعمال ہوتے رہیں تو ذمہ داری صرف اس فرد پر ڈال کر ادارے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ بھرتی کرنے والی اتھارٹی، دستاویزات کی جانچ کرنے والا عملہ، تبادلے کے وقت ریکارڈ کی تصدیق نہ کرنے والے حکام، اور ہر ترقی کے موقع پر بغیر پڑتال دستخط کرنے والی کمیٹیاں، سب اس سوال کے دائرے میں آتے ہیں۔ پھر کوء وسل بلوئر اگر متعلقہ ادارے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کو باضابطہ آگاہ کر دے تو سالہا سال ادارے میں درخواستیں سرد خانوں میں پڑی بوسیدہ ہو جاتی ہیں اور کوء کارواء عملی طور پر دکھاء نہیں دیتی۔درحقیقت جعلی ڈگری کے حامل اور جعلسازی کے مرتکب ایسے ہر کیس میں یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اس افسر کے فیصلوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کی دادرسی کیسے ہوگی، اور تنخواہوں، مراعات اور پنشن کی صورت میں وصول کی گئی رقم کی ریکوری کون کرے گا۔ شفاف اور عوامی ریکارڈ ہو تو ایسی غلطی بتیس سال نہیں، بتیس دن بھی نہیں چل سکتی۔سیاستدان بھی انسان ہیں، ان کے خاندان بھی ہیں، ان کی جائیدادیں بھی ہیں اور ان کی جانوں کو بھی خطرات لاحق رہتے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدانوں نے دہشت گردی میں جتنی قیمتی جانیں دی ہیں، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے باوجود ان کے گوشوارے الیکشن کمیشن کے ذریعے عوام کے سامنے آتے ہیں اور کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ تفصیلات کے افشا ہونے کا خطرہ ہے۔

یوں تعلیمی اسناد سے اثاثوں تک سیاستدانوں کے لیے تو قابلِ برداشت ہے لیکن افسر شاہی کے لیے نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کی تفصیل عام شہری کی دسترس میں باآسانی ہوتی ہے اور ان کی سلامتی اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ حساس نوعیت کی معلومات، مثلاً گھر کا درست پتا یا بینک اکاؤنٹ نمبر، چھپائی جا سکتی ہیں، لیکن اثاثوں کی مالیت، ذرائع آمدن اور ملکیت کی نوعیت کو سکیورٹی کے پردے میں چھپانا شفافیت کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔ اسی طرح اکثر بیوروکریسی سے متعلق دوہری شہریت کے حامل ہونے کی تفصیلات سامنے آتی ہیں لیکن مجال ہے کہ کبھی عام پاکستانی کو بتایا ہی جا سکے کہ کس کس نے کہاں کہاں جائیدادیں بنا رکھی ہیں اور کہاں کہاں کس کس حکومت کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ کوئی اچانک نازل ہونے والی افتاد نہیں۔ پاکستان اس عالمی ادارے کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت یہ عہد کر چکا ہے کہ دسمبر 2026 تک اعلیٰ وفاقی افسران کے اثاثوں کے گوشوارے ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ یہ وعدہ تحریری طور پر کیا گیا اور اسے ڈھانچہ جاتی معیار کا درجہ دیا گیا، جس کے ساتھ نیب کے سربراہ کی شفاف تقرری کا وعدہ بھی جڑا ہوا ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بینکوں کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اثاثوں کے ڈیٹا تک زیادہ رسائی دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ڈیٹا بینکوں تک جا سکتا ہے تو اسے صرف عام شہری سے کیوں پوشیدہ رکھا جائے؟ اور اگر اصل وعدہ “اعلیٰ افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانا” تھا تو “منتخب معلومات کی اشاعت” اس وعدے کی روح کے مطابق ہے یا محض خانہ پُری؟ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ آنکھ مچولی کا نتیجہ ہمیشہ یہی نکلتا ہے کہ بوجھ آخرکار عوام پر پڑتا ہے۔جہاں اثاثے آشکار ہونا مشکل ہے وہاں ہی اسناد و درست تعلیمی قابلیت بھی جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ بلاشبہہ اثاثوں کے ساتھ تعلیمی اسناد کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے، یہی وجہ ہے کہ”ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی“ اب ایک ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔

جعلی ڈگری کا مسئلہ پاکستان میں نیا نہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 2010 میں ارکانِ پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع ہوا تھا۔ ایچ ای سی کی نمائندگی میں الیکشن کمیشن نے سینیٹروں، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے مقدمات کی سماعتیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں آٹھ سو سولہ منتخب نمائندوں کی ڈگریوں کی تصدیق ہوئی تو ان میں سے ساٹھ جعلی نکلیں۔ ان میں سے کئی لوگ نااہل ہوئے، کئی کے خلاف مقدمات بنے اور کچھ نے دوبارہ انتخاب بھی لڑا۔ جو بھی ہوا، کم از کم یہ عمل عوامی روشنی میں ہوا۔ نام سامنے آئے، سماعتیں ہوئیں، اخبارات میں فہرستیں چھپیں اور رائے عامہ نے اپنا فیصلہ سنایا۔لیکن کیا کبھی کسی نے پوچھا کہ سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کا اسی شدت سے جائزہ کب لیا گیا؟ مختلف سرکاری اداروں کی خبریں ریکارڈ پر ہیں۔ پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور عدالت نے واضح کیا کہ جعلی ڈگری رکھنے والے سرکاری ملازمت کے اہل نہیں۔ سی ڈی اے میں متعدد ملازمین جعلی اسناد پر برطرف ہوئے اور بعض معاملات میں مقدمات درج کرنے کی خبریں آئیں، جبکہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن اور او پی ایف جیسے اداروں میں بھی اسناد کی تصدیق کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔

پی آئی اے میں چھ سو انسٹھ ملازمین کی جعلی ڈگریوں کا ذکر قومی اسمبلی میں بھی ہو چکا ہے۔ اسی طرح متعدد دیگر اداروں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کی ڈگریاں جعلی قرار پائیں لیکن یہ سب وہ کیس ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے منظرِ عام پر آ گئے۔ سوال یہ ہے کہ جو کیس سامنے نہیں آئے، ان کا حساب کون رکھے گا؟اصل المیہ یہ ہے کہ کسی افسر کی ڈگری کے جعلی ہونے کی اطلاع اکثرکسی وسل بلوئر کے ذریعے ملتی ہے، اور پھر شکایت، انکوائری، خط و کتابت، تصدیق اور اپیل کا ایک ایسا طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں افسر برسوں تنخواہیں، ترقیاں اور مراعات سمیٹتا رہتا ہے۔ کئی معاملات میں شکایت کنندہ تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے، یا دباؤ اور انتقامی کارروائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب نظام میں یہ سہولت موجود ہو کہ معلومات تک رسائی چند ہاتھوں میں ہو اور فیصلہ بھی انہی کے پاس ہو، تو احتساب کی گنجائش عملاً ختم ہو جاتی ہے۔ اگر اثاثوں کے ساتھ اسناد کی تصدیق بھی ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کا حصہ بن جائے تو جعلی ڈگری کے ذریعے نظام میں داخل ہونے کا راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔اس صورتِ حال کا حل کسی راکٹ سائنس میں پوشیدہ نہیں۔سب سے پہلے یہ اصول طے ہونا چاہیے کہ عوامی عہدہ رکھنے والا ہر شخص، خواہ وہ منتخب ہو یا تعینات، ایک ہی پیمانے پر پرکھا جائے گا۔ دوسرا، گریڈ سترہ سے اوپر کے تمام افسران کی تعلیمی اسناد کی ایچ ای سی اور متعلقہ جامعات سے تصدیق ایک مقررہ مدت میں مکمل کی جائے اور اس کی کیفیت شفاف انداز میں عوام کے لیے دستیاب ہو۔ تیسرا، بیوروکریسی کے اثاثوں و اسناد کی تفصیل میں وہی حساس معلومات چھپائی جائیں جو سیاستدانوں کے معاملہ میں بھی چھپائی جاتی ہیں، لیکن تعلیمی قابلیت و اثاثوں کی نوعیت، مالیاتی تفصیلات اور ذرائعِ آمدن سے مطابقت کے گوشوارے کو پردے میں نہ رکھا جائے۔ چوتھا، وسل بلوئر کے تحفظ کا قانون عملی طور پر نافذ ہو اور شکایات کا فیصلہ مقررہ وقت میں کیا جائے۔

پانچواں، حنا ربانی کھر اور جاوید حنیف جیسے ارکان نے جو سوالات مسلسل متعلقہ فورمز پر رکھے ہیں، انکا تحریری جواب قائمہ کمیٹی میں طلب کیا جائے کہ سکیورٹی کا وہ کون سا خطرہ ہے جو صرف افسروں کو لاحق ہے اور بروقت اس پر فیصلہ کر کے ایسی شفاف پالیسی بنا دی جائے جس کے سبب وطن عزیز میں شفافیت و احتساب کا بول بالا ہو، چھٹا، یہ کہ ایک ایسی ویب سائٹ بنا دی جائے جہاں عام پاکستانی تعلیمی اسناد سے پروفائل تک تمام متعلقہ تفصیلات و مصدقہ کاغذات تک باآسانی رساء حاصل کر سکیں۔کیا یہ ٹیکس ادا کرنے والی عوام کا حق نہیں کہ انہیں باآسانی معلوم ہو سکے کہ کس افسر کی کیا قابلیت ہے اور اس پر کہاں کہاں کیوں انکوائری جاری ہے، کون کونسی ایف آء آر میں صاحب نامزد ہیں اور اسکا کیا سٹیٹس ہے۔ ایک دوست کا کہنا ہے کہ اسناد تو ایک جانب اگر صرف ایف آء آرز و انکوائریز کی تفصیلات عام ہو گئیں تو اسلام آباد کی آدھی بیوروکریسی کے چہرے سے نقاب اتر جائے گا۔شفافیت کوئی احسان نہیں، یہ شہری کا حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وقت ہمیں ہر مرتبہ ایک اور موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے نظام کو خود درست کریں، شفاف بنائیں اور کسی کو مقدس گائے نہ بننے دیں لیکن عوامی طور پر جب تک مطالبہ شدت سے نہیں کیا جاتا اسوقت تک شفافیت ایک خواب ہی رہے گی۔ اگر ہم نے ہر موقع کی طرح اس موقع کو بھی “منتخب معمولی معلومات” کی نذر کر دیا تو پھر نہ سیاستدان پر انگلی اٹھانے کا اخلاقی حق باقی رہے گا اور نہ بیوروکریسی سے سوال کرنے کا۔ ایک ہی ملک میں دو پیمانے نہیں چل سکتے، یا تو سب کے لیے کھلی کتاب، یا کسی کے لیے بھی نہیں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا