عرب نظریات: ایک تقسیم شدہ خلیج؟

0
304
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سُندرشعیب ایڈووکیٹ

خلیجِ عرب کو اکثر ایک مشترک سیاسی خطے کے طور پر دیکھا جاتا ہے: تیل اور گیس سے مالا مال ریاستیں، بادشاہتیں، مشترک عربی و اسلامی ورثہ، اور سلامتی کے کئی مشترکہ خدشات۔ لیکن اس یکسانیت کے نیچے مختلف قومی ترجیحات اور الگ الگ علاقائی تصورات موجود ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان ایک ہی نقشے میں ضرور آتے ہیں، مگر ہر ایک اپنے مفادات، خطرات اور مواقع کو اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ خلیج متحد ہے یا منقسم؛ اصل سوال یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود مشترک مسائل پر تعاون کتنا ممکن ہے۔خلیجی تعاون کونسل 1981 میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا تھا۔ مشترک زبان، مذہب، خاندانی روابط اور جغرافیہ نے اس تعاون کی بنیاد فراہم کی، جبکہ خطے کی جنگوں اور عدم استحکام نے اجتماعی سلامتی کی ضرورت کو نمایاں کیا۔ جی سی سی کے رہنما آج بھی مشترکہ سلامتی اور معاشی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں؛ دسمبر 2025 کے بحرین اعلامیے میں بھی علاقائی تحفظ، بحری راستوں اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

تاہم جی سی سی کےمشترک اعلامیے مشترکہ پالیسی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ رکن ممالک کے درمیان اختلافات کبھی کھل کر سامنے آتے ہیں اور کبھی سفارتی زبان کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔ 2017 میں قطر کے خلاف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی پابندیوں نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ خلیجی ریاستیں سلامتی اور علاقائی اثرورسوخ کو ایک ہی انداز سے نہیں دیکھتیں۔ 2021 میں العُلا معاہدے کے بعد تعلقات بحال ہوئے، مگر بحران نے قطر کو اپنی خودمختار خارجہ پالیسی اور متنوع تعلقات کی اہمیت مزید سمجھا دی۔ اختلاف ختم نہیں ہوا؛ اس کے اظہار کا طریقہ بدل گیا۔قطر کا علاقائی تصور ثالثی، سفارتی رابطوں اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت بڑھانے پر مبنی ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں مختلف فریقوں سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سعودی عرب اپنی آبادی، جغرافیائی وسعت، مذہبی حیثیت اور معاشی وزن کے باعث خطے میں قیادت کا فطری دعوے دار ہے۔ وہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو تیل سے آگے لے جانے اور عالمی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے تجارت، بندرگاہوں، مالیات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی رابطوں کا ایک الگ نمونہ قائم کیا ہے۔ عمان عموماً خاموش سفارت کاری اور ثالثی پر توجہ دیتا ہے، جبکہ کویت نے تاریخی طور پر مفاہمت اور پارلیمانی سیاست کی ایک مختلف مثال پیش کی ہے۔

بحرین کی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر اس کے جغرافیے اور سعودی عرب سے قریبی تعلق کا گہرا اثر ہے۔یہ فرق صرف نظریاتی نہیں، عملی بھی ہے۔ سعودی عرب اور امارات کئی مسائل پر قریبی شراکت دار رہے ہیں، مگر ان کے معاشی اور سیاسی مفادات میں مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ دونوں عالمی سرمایہ کاری، علاقائی کاروبار اور سیاحت کے بڑے مراکز بننا چاہتے ہیں۔ تیل کی پیداوار اور یمن جیسے تنازعات پر ان کی ترجیحات بھی ہمیشہ یکساں نہیں رہیں۔ چیتھم ہاؤس کے تجزیے کے مطابق خلیجی قیادتیں اب زیادہ عملی سفارت کاری اور اپنے فیصلوں میں خودمختاری پر زور دیتی ہیں؛ اس رجحان کے باعث اتحاد کے باوجود پالیسیوں میں فرق برقرار ہے۔ایران کے ساتھ تعلقات اس تقسیم کا ایک اور اہم پہلو ہیں۔ خلیجی ریاستوں کو ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اثرورسوخ پر تشویش ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک ہی حکمت عملی اپنائیں۔ بعض حکومتیں دباؤ اور دفاعی تیاری کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ بعض سفارتی رابطے اور کشیدگی میں کمی کو زیادہ مؤثر سمجھتی ہیں۔ کئی ریاستوں کے لیے دونوں راستے بیک وقت ضروری ہیں: دفاع مضبوط رکھا جائے، مگر ایسا تصادم نہ چھیڑا جائے جو توانائی کی تنصیبات، تجارت، سیاحت اور سمندری گزرگاہوں کو خطرے میں ڈال دے۔ کارنیگی انڈومنٹ کے مطابق خلیجی ممالک ایران سے متعلق خطرات کے باوجود براہِ راست تنازع میں گھسیٹے جانے سے بچنے اور اپنے اپنے سفارتی راستے اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔امریکا کے ساتھ تعلقات بھی ایک سیدھی لکیر نہیں۔

خلیجی ریاستیں امریکی دفاعی تعاون اور اسلحے پر انحصار کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی چین، روس، یورپ اور ایشیائی معیشتوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہی ہیں۔ یہ حکمت عملی محض کسی ایک طاقت سے دوری نہیں، بلکہ سفارتی اور معاشی اختیارات میں اضافہ ہے۔ حکومتیں چاہتی ہیں کہ انہیں عالمی طاقتوں کے مقابلے میں صرف اتحادی یا صرف خریدار نہ سمجھا جائے؛ وہ خود بھی علاقائی فیصلوں پر اثرانداز ہوں۔ مگر جب بیرونی طاقتیں خطے میں جنگ یا کشیدگی میں شریک ہوں تو خلیجی ریاستوں کے لیے توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس توازن پر عرب عوام کی رائے بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ حکومتی سطح پر تعلقات اور عوامی جذبات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ غزہ اور فلسطین کا مسئلہ اس کی نمایاں مثال ہے۔ کچھ حکومتوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے یا تعاون بڑھانے کو اپنے تزویراتی مفاد میں دیکھا، لیکن عوام میں فلسطینی حقوق کے لیے حمایت نے اس راستے کو سیاسی طور پر حساس بنا دیا۔ عرب بارومیٹر کے مطابق خطے کے کئی ممالک میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی حمایت غزہ کی جنگ کے بعد کم ہوئی، اور عوامی رائے حکومتوں کی سفارت کاری کو محدود کر سکتی ہے۔

اسی لیے تقسیم شدہ خلیج کا تصور مکمل تصویر نہیں دیتا۔ اختلافات حقیقی ہیں، لیکن مشترک خطرات بھی حقیقی ہیں۔ کسی بڑی جنگ، سمندری راستوں کی بندش، سائبر حملے یا توانائی کی تنصیبات پر حملے کا اثر کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا۔ آب و ہوا کی تبدیلی، پانی کی کمی اور معاشی تنوع جیسے مسائل بھی سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتے۔ خلیجی ممالک ان چیلنجوں سے الگ الگ نمٹ سکتے ہیں، مگر مشترکہ منصوبہ بندی، معلومات کے تبادلے اور بحران کے وقت رابطے کے بغیر ان کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔اصل ضرورت یہ نہیں کہ تمام ریاستیں ہر مسئلے پر ایک ہی مؤقف اختیار کریں۔ ایسی توقع ان کی قومی خودمختاری اور مختلف معاشی و سیاسی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ زیادہ قابلِ عمل راستہ یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود ایسے اصول طے ہوں جن پر سب متفق رہ سکیں: بحران کے وقت براہِ راست رابطہ، شہری و توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کی پابندی، بحری تجارت کا تحفظ، اور اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش۔ جی سی سی کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ اس کے ارکان کتنی بار مشترکہ بیان جاری کرتے ہیں

، بلکہ اس سے کہ اختلاف کے وقت وہ تصادم کو کس حد تک روک پاتے ہیں۔آنے والے برسوں میں خلیج کا سیاسی مستقبل شاید ایک متحد بلاک یا مکمل طور پر بکھرے ہوئے اتحاد کے درمیان طے نہ ہو۔ زیادہ امکان ایک ایسے خطے کا ہے جہاں مقابلہ اور تعاون ساتھ ساتھ چلیں گے۔ سعودی عرب، امارات اور قطر اپنے اپنے اثرورسوخ کو وسعت دیں گے؛ عمان اور کویت سفارتی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کریں گے؛ اور سب ریاستیں بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں اپنا فائدہ تلاش کریں گی۔ اس منظرنامے میں “عرب نظریات” ایک نہیں، کئی ہیں۔ خلیج کی اصل آزمائش یہ ہو گی کہ وہ ان مختلف تصورات کو ایسی مشترک حکمتِ عملی میں ڈھال سکے جو قومی مفادات کا احترام کرے اور خطے کو ایک نئی تباہ کن کشیدگی سے بچائے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا