معین ریاض قریشی کے خلاف قانونی جنگ: عظمیٰ بخاری فاتح؟

0
985

مسعود چوہدری

پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف معین ریاض قریشی کے درمیان ہتکِ عزت کا مقدمہ محض دو سیاست دانوں کا ذاتی تنازع نہیں۔ اس میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات، میڈیا پر لگائے گئے الزامات، سیاسی اختلاف کی حدود اور عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری سبھی اہم سوالات شامل ہیں۔ لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے 20 اکتوبر 2026 کو مختصر حکم میں عظمیٰ بخاری کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے معین ریاض قریشی کو 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے خصوصی اور تعزیری ہرجانے کا دعویٰ مسترد کیا، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہونا ہے۔ اس لیے سیاسی طور پر اسے عظمیٰ بخاری کی کامیابی کہا جا سکتا ہے، مگر قانونی نتیجے کی مکمل تعبیر کے لیے تفصیلی فیصلے کا انتظار ضروری ہے۔تنازع کا آغاز خیبر پختونخوا کے اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے پنجاب اسمبلی کے دورے کے موقع پر معین قریشی کے ایک ٹی وی بیان سے ہوا۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے الزام لگایا تھا کہ عظمیٰ بخاری نے اسمبلی میں ڈیڑھ سے دو سو معاوضہ یافتہ افراد داخل کرائے، اور آفریدی سے سوال کرنے والے صحافی بھی ان کے تنخواہ دار ملازم تھے۔

عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کو بے بنیاد اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا اور پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت ٹربیونل سے رجوع کیا۔ عدالت میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ الزامات نشر اور سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے، مگر معین قریشی انہیں ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کر سکے۔ ڈان کی مقدمے سے متعلق رپورٹ اس مقدمے کے بارے میں خبر دیتے ہوئے بعض ذرائع نے ہرجانے کی رقم مختلف انداز میں بیان کی۔ ڈان کے مطابق عظمیٰ بخاری نے 80 کروڑ روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جبکہ بعض دوسری خبروں میں یہ رقم 8 کروڑ 40 لاکھ لکھی گئی۔ بہرحال، 20 اکتوبر کے عدالتی حکم کے بارے میں ڈان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹوں میں 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانے کا ذکر ہے؛ عدالت نے خصوصی اور تعزیری ہرجانے نہیں دیے۔

اس فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے: دعویٰ کی گئی رقم اور عدالت کی جانب سے منظور شدہ ہرجانہ ایک چیز نہیں۔ہتکِ عزت کے دعوے میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ فریقین میں سے کون زیادہ مقبول یا زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ متنازع بیان کیا تھا، کس سیاق میں دیا گیا، اس سے کس کی ساکھ متاثر ہوئی، اور بیان دینے والے کے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے کیا بنیاد موجود تھی۔ سیاست دانوں کو عوامی معاملات پر سوال اٹھانے اور حکومتی شخصیات پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر کسی مخصوص فرد پر قابلِ جانچ الزام لگانا—مثلاً یہ کہنا کہ اس نے معاوضہ دے کر لوگوں کو اسمبلی میں داخل کرایا یا صحافیوں کو اپنا ملازم بنایا—محض سیاسی رائے کا اظہار نہیں رہتا۔ ایسے دعوے کو ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق معین قریشی نے عدالت میں اپنے بیان کا اعتراف کیا، لیکن وہ اس کے حق میں ثبوت پیش نہ کر سکے۔ اگر تفصیلی فیصلے میں یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ الزام حقیقت کے طور پر پیش ہوا، اس کی تائید میں قابلِ اعتبار مواد موجود نہیں تھا، اور مدعا علیہ اپنی قانونی صفائی قائم نہ کر سکا، تو عمومی ہرجانے کا حکم قانونی منطق کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔ البتہ مختصر حکم سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت نے ہر ممکن قانونی نکتے پر حتمی رائے دے دی ہے۔ تفصیلی فیصلہ ہی بتائے گا کہ ٹربیونل نے ثبوت، دفاع، نقصان اور قابلِ اطلاق قانون کو کس طرح پرکھا۔پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے خصوصی ٹربیونل قائم کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے بعض پہلو، خصوصاً کارروائی کا طریقۂ کار اور آزادیِ اظہار پر ممکنہ اثرات، صحافتی اور قانونی حلقوں میں پہلے ہی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ قانون کے تحت فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کا راستہ موجود ہے۔ اس مقدمے میں آئندہ کسی اپیل، حکمِ امتناع یا فیصلے میں تبدیلی کی اطلاع سامنے آئے تو موجودہ نتیجے کی حیثیت بھی اسی کے مطابق دیکھی جائے گی۔ عظمیٰ بخاری کے لیے یہ فیصلہ سیاسی اعتبار سے اہم ہے۔

وہ حکومتی جماعت کی ترجمان اور صوبائی وزیر ہیں؛ ان کے بارے میں یہ الزام کہ انہوں نے اسمبلی کے اندر معاوضہ یافتہ افراد داخل کرائے یا صحافیوں کو اپنے زیرِاثر رکھا، ان کی سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ عدالت سے اپنے مؤقف کے حق میں حکم حاصل کرنا انہیں یہ کہنے کا موقع دیتا ہے کہ الزام لگانے والے کو اپنے دعوے کا ثبوت دینا چاہیے۔ یہ پیغام ان تمام سیاست دانوں کے لیے اہم ہے جو ٹی وی پروگراموں یا سوشل میڈیا پر سنگین الزامات دہراتے ہیں۔لیکن عدالتی کامیابی کو سیاسی مخالف کی مکمل شکست یا تمام سیاسی سوالات کے خاتمے کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔ فیصلے میں 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانہ دیا گیا، جبکہ خصوصی اور تعزیری ہرجانے کا مطالبہ منظور نہیں ہوا۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ عدالت نے مقدمے کے ہر پہلو میں درخواست گزار کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔

اس لیے سرخیوں میں ’’عظمیٰ بخاری نے 8 کروڑ 40 لاکھ روپے جیت لیے‘‘ جیسا تاثر، اگر اسے اصل عدالتی حکم سمجھا جائے، درست نہیں ہوگا۔ حکم کی اصل رقم وہ ہے جو عدالت نے منظور کی ہے، نہ کہ وہ جو دعوے میں مانگی گئی تھی۔معین قریشی کے لیے یہ فیصلہ سیاسی طور پر دھچکا ضرور ہے، بالخصوص اگر انہوں نے پارلیمانی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ایک عوامی الزام لگایا ہو اور پھر عدالت میں اسے ثابت نہ کر سکے ہوں۔ اپوزیشن کا کام حکومت سے سوال کرنا، سرکاری سرگرمیوں پر نگرانی رکھنا اور عوامی مفاد کے معاملات اٹھانا ہے۔ مگر اپوزیشن کی قوت صرف سخت زبان میں نہیں، قابلِ اعتماد معلومات میں بھی ہوتی ہے۔ بغیر ثبوت الزام لگانے سے حکومتی احتساب کمزور اور سیاسی مکالمہ زیادہ تلخ ہوتا ہے۔ اگر ان کے پاس معلومات تھیں تو انہیں دستاویز، عینی شہادت یا دیگر قابلِ جانچ مواد کے ساتھ پیش کرنا چاہیے تھا۔

اگر یہ محض ذاتی مشاہدہ تھا تو اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر بیان کرنے کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔دوسری جانب، اس فیصلے کو صحافیوں، مخالف سیاست دانوں یا شہریوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ہتکِ عزت کا قانون ہر تنقید کو ممنوع نہیں بناتا؛ اس کا مقصد جھوٹے اور نقصان دہ دعووں کے لیے تلافی فراہم کرنا ہے۔ عوامی عہدے داروں سے متعلق معاملات پر تحقیق، سوال اور سخت تنقید جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تنقید اور بے بنیاد الزام میں فرق کیا جائے، اور اس فرق کا فیصلہ قانون اور شواہد کی روشنی میں ہو، سیاسی طاقت یا میڈیا مہم کے دباؤ میں نہیں۔یہ مقدمہ ایک وسیع تر مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے: ہمارے سیاسی مکالمے میں الزام اکثر دلیل کی جگہ لے لیتا ہے۔ ٹی وی پر ایک جملہ، سوشل میڈیا پر ایک کلپ یا جلسے میں لگایا گیا دعویٰ چند گھنٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ جاتا ہے؛ بعد میں اس کی تردید یا عدالتی وضاحت اسی رفتار سے نہیں پھیلتی۔ اگر ہر سیاست دان یہ سمجھے کہ کسی پر سنگین الزام لگانے سے پہلے اس کے پاس ثبوت ہونا چاہیے تو بحث کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ میڈیا اداروں پر بھی ذمہ داری ہے کہ متنازع دعووں کو غیرمصدقہ ہونے کی صورت میں واضح کریں اور متعلقہ فریق کو جواب کا موقع دیں۔اس فیصلے کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کو بھی ساکھ کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق ہے، اور مخالفین کو بھی حکومتی فیصلوں پر تنقید کا حق حاصل ہے۔ یہ دونوں حقوق ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔

اصل کسوٹی یہ ہے کہ بیان حقیقت کا دعویٰ تھا یا سیاسی رائے، اس کے پیچھے کیا ثبوت تھا، اور عدالتی کارروائی منصفانہ طریقے سے ہوئی یا نہیں۔ اب جب تک تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آتا، مقدمے کے قانونی اسباب اور عدالت کے استدلال پر قطعی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔فی الحال اتنا کہا جا سکتا ہے کہ مختصر عدالتی حکم میں عظمیٰ بخاری کو جزوی قانونی کامیابی ملی ہے: معین ریاض قریشی کو 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم ہوا، جبکہ خصوصی اور تعزیری ہرجانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ اسے عظمیٰ بخاری کی فتح کہنا درست ہے، بشرطیکہ اس فتح کی حدود بھی واضح رہیں۔ اس مقدمے کا اصل سیاسی فائدہ کسی ایک فریق کے نعرے میں نہیں، بلکہ اس اصول کے مضبوط ہونے میں ہے کہ عوامی سطح پر لگایا گیا سنگین الزام ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ یہ اصول بھی محفوظ رہنا چاہیے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے سیاسی تنقید کا حق ختم نہیں ہوتا؛ اسے ذمہ دارانہ اور شواہد پر مبنی ہونا چاہیے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا