حوثی جنگجو بمقابلہ خلیج، یورپ اور دیگر ممالک! یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟

0
49

عمران رشید

بحیرۂ احمر کے کنارے اٹھنے والی کشیدگی اب یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک طرف حوثی جنگجو ہیں، جو اپنے حملوں کو فلسطینیوں کی حمایت اور بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت قرار دیتے ہیں؛ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک ہیں، جن کے تیل، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو خطرہ لاحق ہے۔ یورپی ممالک بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے مشن چلا رہے ہیں، جبکہ امریکا اور دوسرے فریق بھی خطے میں اپنی موجودگی اور مفادات کے تحفظ میں سرگرم ہیں۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا؛ اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کے دائرے کو وسیع ہونے سے کون روکے گا؟یمن کا تنازع نیا نہیں۔ برسوں سے جاری خانہ جنگی نے ملک کو مختلف سیاسی اور عسکری دھڑوں میں بانٹ رکھا ہے۔ حوثی تحریک شمالی یمن کے بڑے حصے پر قابض ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ 2022 کی جنگ بندی سے لڑائی میں کچھ کمی آئی تھی، مگر مستقل سیاسی حل نہ نکل سکا۔

اب علاقائی جنگ اور بحری راستوں پر حملوں نے پرانے تنازع کو پھر بھڑکا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یمن کے اندرونی اختلافات بیرونی طاقتوں کے مقابلے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔حوثی حملوں کی اہمیت ان کے عسکری حجم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے، اور اس کے ذریعے ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان سامان اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے پر خطرہ بڑھنے سے جہازوں کے بیمے اور مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں، سفر طویل ہو جاتا ہے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ آتا ہے۔ جہاز رانی کی کمپنیوں کو راستہ بدل کر افریقہ کے گرد جانا پڑے تو سامان کی ترسیل میں وقت اور لاگت دونوں بڑھتے ہیں۔ یوں یمن کے ساحل سے اٹھنے والا بحران دکانوں، کارخانوں اور صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔اس وقت کشیدگی صرف سمندری جہازوں تک محدود نہیں۔

اکتوبر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم مقامات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ سعودی عرب نے ان حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات نے خلیجی دارالحکومتوں میں خطرے کا احساس بڑھایا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی تعاون پر بات ہوئی، جبکہ مصری سکیورٹی ادارے نے سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہر حملہ صرف ایک ملک اور ایک گروہ کے درمیان معاملہ نہیں رہتا؛ اس کے ساتھ کئی ریاستوں کے ردعمل اور اتحاد جڑ جاتے ہیں۔یورپ کی تشویش کا مرکز بحری تجارت ہے۔ یورپی یونین کا بحری مشن بحیرۂ احمر میں جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم ہے، مگر حالیہ کشیدگی نے اس کی صلاحیت اور وسائل کی حدیں نمایاں کر دی ہیں۔ یورپی ممالک کو یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ اپنی بحری موجودگی کتنی بڑھائیں، اور کیا صرف دفاعی گشت سے خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

اگر یورپی جہاز حملے کی زد میں آئیں تو سیاسی دباؤ بڑھے گا کہ حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائی کی جائے۔ مگر ہر فضائی یا بحری حملہ حوثیوں کو اپنی حمایت بڑھانے اور نئے حملوں کا جواز پیش کرنے کا موقع بھی دے سکتا ہے۔یہاں ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے: کیا طاقت کے استعمال سے حوثیوں کو روکا جا سکتا ہے؟ محدود فوجی کارروائی سے بعض میزائل یا تنصیبات تباہ ہو سکتی ہیں، مگر اس سے سیاسی تنازع ختم نہیں ہوتا۔ حوثی کئی برس کی جنگ کے بعد ایک منظم عسکری قوت بن چکے ہیں، اور ان کے پاس ڈرون، میزائل اور ساحلی حملوں کے مختلف ذرائع ہیں۔ دوسری طرف خلیجی ریاستیں اپنے شہریوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی تجارت کو غیر محفوظ نہیں چھوڑ سکتیں۔ اس لیے دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے تو اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہر فریق اپنے اقدام کو دفاع کہتا ہے، مگر عام شہریوں کے لیے نتیجہ مزید خوف اور تباہی ہوتا ہے۔یمن کے عام لوگوں کا ذکر اکثر بڑی طاقتوں کی بحث میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ برسوں کی جنگ نے لاکھوں شہریوں کو خوراک، صحت اور صاف پانی کے بحران سے دوچار کیا ہے۔ تازہ لڑائی نے یہ خطرہ بڑھا دیا ہے کہ امدادی سامان کی رسد، بندرگاہوں کا کام اور ضروری اشیا کی قیمتیں مزید متاثر ہوں گی۔ 19 اکتوبر کو حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں یمنی سرکاری افواج کے کم از کم 53 اہلکار ہلاک ہوئے؛ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یمن کے اندر محاذ بھی دوبارہ گرم ہو رہا ہے۔ جنگ اگر پھیلتی ہے تو اس کی سب سے بھاری قیمت پھر انہی لوگوں کو ادا کرنا پڑے گی جن کا فیصلہ سازی میں کوئی اختیار نہیں۔

پھر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ اس کا کوئی یقینی جواب نہیں، کیونکہ یہ صرف میزائلوں کی تعداد یا بحری جہازوں کی موجودگی پر منحصر نہیں۔ جب تک یمن میں اقتدار، نمائندگی، سلامتی اور وسائل پر کوئی قابلِ قبول سیاسی سمجھوتہ نہیں ہوتا، حوثی مسئلے کا مکمل خاتمہ مشکل ہے۔ اسی طرح سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کیے بغیر یمن کے فریقوں کو بیرونی مدد اور پشت پناہی ملتی رہے گی۔ اگر بحیرۂ احمر کو علاقائی رقابت کا ہتھیار بنایا گیا تو یورپ اور امریکا کی مداخلت بھی بڑھ سکتی ہے، اور تنازع میں مزید ممالک کھنچ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے دوبارہ سیاسی عمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جنگ بندی بذاتِ خود امن نہیں، لیکن وہ مذاکرات اور امداد کے لیے ضروری مہلت فراہم کر سکتی ہے۔ ایسے سمجھوتے میں بحری راستوں پر حملے روکنے، شہری تنصیبات کو محفوظ رکھنے، قیدیوں کے تبادلے اور امدادی رسائی کو یقینی بنانے جیسے عملی اقدامات شامل ہونے چاہییں۔ اس کے بعد یمن کے اندر سیاسی مذاکرات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اگر فریق پہلے دن ہی ایک دوسرے سے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کریں گے تو بات چیت شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جائے گی۔خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بحری جہازوں کی حفاظت اور سیاسی حل ایک دوسرے کے مخالف راستے نہیں۔ دفاعی اقدامات جہازوں کو فوری تحفظ دے سکتے ہیں، مگر پائیدار سلامتی کے لیے جنگ کے اسباب کو حل کرنا ہوگا۔

حوثیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ تجارتی جہازوں اور شہری مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکیں؛ کسی سیاسی مقصد کے نام پر عام لوگوں کی جان خطرے میں ڈالنا قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح بیرونی طاقتوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو یمن کو ایک بڑی علاقائی جنگ کا میدان بنا دیں۔یہ جنگ شاید کسی ایک دن اچانک ختم نہ ہو۔ اگر فریق عسکری برتری کو واحد راستہ سمجھتے رہے تو یہ مہینوں بلکہ برسوں تک مختلف شکلوں میں جاری رہ سکتی ہے۔ لیکن اگر بحری سلامتی کے فوری انتظام کے ساتھ یمن کے سیاسی مذاکرات اور علاقائی مفاہمت کو ایک ہی عمل کے دو حصے بنایا جائے تو کشیدگی گھٹنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنے میزائل روک سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا معاہدہ ممکن ہے جس میں حوثیوں، یمنی حکومت، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کے لیے واپسی کا راستہ موجود ہو۔ جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، بحیرۂ احمر کا ہر گزرتا جہاز امن کی امید بھی ہوگا اور اگلے بحران کا خطرہ بھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا